امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکہ میں قیام (اووراسٹے) کی بلند شرح، شناخت اور مجرمانہ ریکارڈ کی ناکافی تصدیق، معلومات کے محدود تبادلے، اور سفری و سرکاری دستاویزات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق بانڈ کا مقصد یہ ہے کہ ویزا حاصل کرنے والوں کو مدت سے زیادہ قیام کرنے سے روکا جا سکےامریکہ نے کاروباری اور سیاحتی ویزوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام مستقل کر دیا ہے، جس کے تحت بعض ممالک کے شہریوں کو ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار ڈالر تک بطور ضمانت جمع کرانا پڑ سکتے ہیں۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکہ میں قیام (اووراسٹے) کی بلند شرح، شناخت اور مجرمانہ ریکارڈ کی ناکافی تصدیق، معلومات کے محدود تبادلے، اور سفری و سرکاری دستاویزات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے یہ 20 اگست 2025 کو شروع کیے گئے 12 ماہ کے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام کی توسیع ہے۔
اس سے قبل رواں برس مئی میں امریکی محکمہ خارجہ نے پائلٹ پروگرام کے دوران 50 ممالک کی فہرست جاری کی تھی جن کے شہریوں کو بی ون یا بی ٹو ویزا حاصل کرنے کے لیے ویزا بانڈ جمع کرانے کی شرط کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مالی سال 2024 میں ان ممالک سے 45,488 افراد نے ویزا کی معیاد سے زیادہ قیام کیا تھا، جبکہ پائلٹ پروگرام کے پہلے دس ماہ میں ایسے افراد کی تعداد 50 سے کم رہی۔ اسی مدت میں ان ممالک کے لیے بی ون یا بی ٹو ویزوں کے اجرا میں 83 فیصد کمی بھی دیکھی گئی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا بانڈ ادا کرنے کے بعد ویزا ہولڈر کو امریکہ میں اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھنا اور مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنا ہو گا۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق اگر ویزا ہولڈر ویزا اور بانڈ کی تمام شرائط پوری کرے تو بانڈ کی رقم واپس کر دی جائے گی۔
تاہم اگر کوئی شخص مقررہ مدت کے بعد امریکہ میں قیام کرے، غیر مجاز طور پر حیثیت تبدیل کرنے کی درخواست دے یا بعض دیگر شرائط کی خلاف ورزی کرے، تو پورا بانڈ ضبط کیا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پروگرام کا مقصد امریکی امیگریشن قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا، ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کی شرح کم کرنا اور غیر ملکی حکومتوں کو اپنے شہریوں کی جانب سے ویزا شرائط کی پابندی یقینی بنانے کی ترغیب دینا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز اگست 2025 میں کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر ملاوی، زیمبیا کو اس فہرست میں رکھا گیا تھا۔
یکم جنوری 2026 سے اس میں مزید ممالک کا اضافہ کیا گیا اور یہ شرط بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نمیبیا اور ترکمانستان پر بھی لاگو کر دی گئی۔
تب امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ مزید 25 ممالک اس فہرست میں شامل کیے جا رہے ہیں جو کہ الجزائر، انگولا، اینٹیگا اور بارباڈوا، بنگلہ دیش، بنین، برونڈی، کیپ وردے، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گبون، آئیوری کوسٹ، کرغزستان، نیپال، نائجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، ٹوالو، یوگنڈا، وانواتو، وینزویلا اور زمبابوے ہیں۔
تاریخ کے لحاظ سے ویزا بانڈ پروگرام میں شامل کیے گئے ممالک
20 اگست 2025: ملاوی، زیمبیا۔
11 اکتوبر 2025: گیمبیا۔
23 اکتوبر 2025: موریتانیہ، ساؤ ٹومے اینڈ پرنسپے، تنزانیہ۔
یکم جنوری 2026: بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نمیبیا، ترکمانستان۔
21 جنوری 2026: الجزائر، انگولا، اینٹیگوا اینڈ باربوڈا، بنگلہ دیش، بینن، برونڈی، کیبو وردے، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گیبون، کرغز جمہوریہ، نیپال، نائجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، تووالو، یوگنڈا، وانواتو، وینزویلا اور زمبابوے۔
2 اپریل 2026: کمبوڈیا، ایتھوپیا، جارجیا، گریناڈا، لیسوتھو، ماریشس، منگولیا، موزمبیق، نکاراگوا، پاپوا نیو گنی، سیشلز اور تیونس
کس کو کتنے ڈالرز دینے ہیں؟

محکمہ خارجہ کے مطابق قونصلر افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ویزا درخواست دہندگان سے اس نوعیت اور مقدار کا بانڈ طلب کریں جو اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے کہ درخواست دہندہ مقررہ وقت پر امریکہ چھوڑ دے۔ پروگرام میں یکسانیت برقرار رکھنے اور مختلف کیسز میں بانڈ کی غیر مستقل شرائط سے بچنے کے لیے بانڈ کے تین درجے مقرر کیے گئے ہیں: 10 ہزار، 15 ہزار اور 20 ہزار امریکی ڈالر۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق عام طور پر قونصلر افسر 15 ہزار ڈالر کا بانڈ مقرر کریں گے۔ تاہم اگر افسر کے خیال میں درخواست دہندہ کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ 15 ہزار ڈالر کا بانڈ ادا کر سکے، جبکہ امریکہ کے سفر اور قیام کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تو بانڈ کی رقم 10 ہزار ڈالر رکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب اگر درخواست دہندہ کے حالات، خصوصاً امریکہ میں اس کے روابط اور دیگر عوامل، یہ ظاہر کریں کہ 15 ہزار ڈالر کا بانڈ بروقت روانگی یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہو گا تو قونصلر افسر 20 ہزار ڈالر کا بانڈ مقرر کر سکتے ہیں۔
بانڈ کی رقم کا تعین کرتے وقت قونصلر افسران درخواست دہندہ کے سفری مقصد، موجودہ ملازمت، آمدنی، مہارتوں، تعلیمی پس منظر اور دیگر متعلقہ معلومات کو مدنظر رکھیں گے۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ بانڈ کے یہ درجے محکمہ خزانہ اور محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) سے مشاورت کے بعد مقرر کیے گئے ہیں۔ رقم کا تعین اس تخمینے کی بنیاد پر بھی کیا گیا جس کے مطابق کسی ایسے شخص کو ملک بدر کرنے کے لیے امریکی حکومت کو امیگریشن قوانین پر عمل درآمد سے متعلق مجموعی طور پر اوسطاً 18,042 ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ میں مقیم رہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگر کوئی ویزا ہولڈر بانڈ کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی کرتا ہے تو عام طور پر اس کی پوری بانڈ رقم ضبط کی جا سکتی ہے، جسے امریکی حکومت بانڈ کی خلاف ورزی سے متعلق انتظامی اخراجات اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی حراست و ملک بدری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
بانڈ جمع کیسے کرایا جا سکے گا؟
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بانڈ جمع کرانے کی شرط عائد ہونے پر درخواست دہندہ کو ویزا درخواست میں فراہم کردہ رابطہ معلومات کے ذریعے تحریری یا الیکٹرانک اطلاع موصول ہوگی، جس میں ویزا بانڈ پروگرام کے ادائیگی پلیٹ فارم کا لنک فراہم کیا جائے گا۔ درخواست دہندہ اسی لنک کے ذریعے محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کا متعلقہ بانڈ فارم بھی جمع کرائے گا۔
بانڈ جمع کرانے والے شخص کو، دستخط کے وقت فراہم کی گئی رابطہ معلومات کی بنیاد پر، فارم کی ایک نقل دی جائے گی۔ بانڈ سے متعلق ڈی ایچ ایس کے فارموں میں درج تمام شرائط و ضوابط قابلِ اطلاق ہوں گے۔
اگر ویزا ہولڈر بانڈ کی شرائط پر خاطر خواہ عمل نہ کرے اور بانڈ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پائے تو بانڈ جمع کرانے والے شخص کو اس بارے میں مطلع کیا جائے گا، خواہ بانڈ خود درخواست دہندہ نے جمع کرایا ہو یا کسی تیسرے فریق نے اس کی جانب سے۔
بانڈ کی خلاف ورزی کے تعین اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کی وضاحت متعلقہ فارموں اور ڈی ایچ ایس کے ضوابط میں کی گئی ہے۔
تاہم محکمہ داخلی سلامتی کے سیکریٹری یہ اختیار پہلے ہی محکمہ خارجہ کے اُن اہلکاروں کو تفویض کر چکے ہیں جنھیں وزیر خارجہ نامزد کریں، تاکہ وہ ایسے بانڈز کی وصولی اور کارروائی سے متعلق امور انجام دے سکیں۔
بانڈ کا مقصد کیا ہے؟
امریکی حکومت کے مطابق بانڈ کا مقصد یہ ہے کہ جن افراد کو سیاحت یا کاروبار کے لیے ویزے جاری کیے گئے ہیں، انھیں مدت سے زیادہ قیام کرنے سے روکا جا سکے۔امریکی حکومت کے مطابق بانڈ کا مقصد یہ ہے کہ جن افراد کو سیاحت یا کاروبار کے لیے ویزے جاری کیے گئے ہیں، انھیں مدت سے زیادہ قیام کرنے سے روکا جا سکے۔
گذشتہ سال جنوری میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت گیر امیگریشن پالیسی اختیار کی تھی۔
اس میں تارکین وطن کو جارحانہ انداز میں ملک بدر کرنا، ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی اور سوشل میڈیا پوسٹس اور پرانی تقاریر کی جانچ پڑتال شامل تھی۔
زمینی یا سمندری سرحدی راستوں سے امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ویزا درخواست وصول کرنے والا قونصلر دفتر درخواست دہندہ سے رابطے کے لیے ویزا درخواست میں فراہم کی گئی رابطہ معلومات استعمال کرے گا اور ویزا کے اجرا کے حتمی مراحل سے آگاہ کرے گا۔
اگر مزید جانچ کے بعد قونصلر افسر یہ طے کرے کہ درخواست دہندہ مطلوبہ ویزا کے لیے اہل نہیں تو ویزا مسترد کر دیا جائے گا اور بانڈ منسوخ کر دیا جائے گا۔
تاہم اگر مطلوبہ بانڈ جمع کرا دیا گیا ہو اور بعد ازاں قونصلر افسر یہ قرار دے کہ درخواست دہندہ دیگر تمام ضروری شرائط پوری کرتا ہے تو اسے باہمی ویزا انتظامات (ویزا ریسیپروسٹی) کے مطابق تین ماہ کے سنگل انٹری، تین ماہ کے ملٹی پل انٹری یا زیادہ سے زیادہ 12 ماہ کے ملٹی پل انٹری ویزا جاری کیے جا سکیں گے۔ ایسے ویزا پر یہ بھی درج ہوگا کہ ویزا بانڈ جمع کرایا گیا ہے۔
بانڈ کی شرائط کے تحت ویزا ہولڈر صرف تجارتی ہوائی اڈوں کے ذریعے امریکہ میں داخل ہو سکے گا اور وہاں سے روانہ ہو سکے گا۔ اس میں سی بی پی پری کلیئرنس مقامات بھی شامل ہیں۔ ویزا ہولڈر کو زمینی یا سمندری سرحدی راستوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔
ابتدائی داخلے کے بعد مسافر کو ہمسایہ علاقوں کا سفر کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس کی واپسی شرائط کے مطابق ہو۔ تاہم امریکہ سے اس کی حتمی روانگی کسی تجارتی امریکی ہوائی اڈے کے ذریعے ہی ہونا ضروری ہوگی۔
ویزا پر درج یہ نوٹ سی بی پی حکام کو آگاہ کرے گا کہ متعلقہ مسافر نے اس پروگرام کے تحت ویزا بانڈ جمع کرایا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ میں قانونی قیام کی مدت یا حیثیت کے تعین کا اختیار بدستور محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کے پاس رہے گا، جس میں سرحدی حکام (سی بی پی) اور امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) شامل ہیں۔ ویزا بانڈ پروگرام سے بی ون یا بی ٹو ویزا ہولڈرز کے مجاز قیام کی مدت سے متعلق ڈی ایچ ایس کے اختیارات متاثر نہیں ہوں گے۔

کن صورتوں میں جمع کرائی گئی رقم واپس کر دی جائے گی؟
امریکی محکمہ خارجہ بانڈ کے مطابق اگر ویزا ہولڈر بانڈ کی تمام شرائط پر عمل کرے تو بانڈ منسوخ کر دیا جائے گا اور جمع کرائی گئی رقم واپس کر دی جائے گی۔
محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کے ریکارڈ کی بنیاد پر بانڈ کی رقم درج ذیل صورتوں میں واپس کی جا سکتی ہے:
- اگر ویزا کی مدت ختم ہو جائے اور ویزا ہولڈر نے امریکہ کا سفر ہی نہ کیا ہو۔
- اگر ویزا کی مدت ختم ہونے تک ویزا ہولڈر امریکہ میں موجود نہ ہو، تجارتی ہوائی اڈے کے ذریعے روانہ ہو چکا ہو اور ویزا کی تمام شرائط کی پابندی کی ہو۔
- اگر ویزا ہولڈر قانونی قیام کے دوران ویزا ختم ہونے کے باوجود ویزا کی تمام شرائط پوری کرتے ہوئے تجارتی ہوائی اڈے کے ذریعے بروقت امریکہ سے روانہ ہو جائے۔
- اگر سرحدی حکام (سی بی پی) ویزا ہولڈر کو امریکہ میں داخلے کا اہل نہ قرار دیں اور داخلی مقام پر اس کا ویزا منسوخ کر دیں۔
- اگر قیام میں توسیع یا حیثیت میں تبدیلی کی منظور شدہ درخواست کے تحت دی گئی نئی مدت ختم ہونے سے قبل ویزا ہولڈر تجارتی ہوائی اڈے کے ذریعے امریکہ سے روانہ ہو جائے اور ویزا سمیت دیگر متعلقہ امیگریشن شرائط کی بھی پابندی کرے۔
منسوخ شدہ بانڈ کی صورت میں بانڈ جمع کرانے والا شخص اپنی اصل رقم واپس لینے کا حق دار ہوگا، تاہم یہ رقم ٹریژری آفسیٹ پروگرام (ٹی او پی) یا دیگر قانونی طریقہ کار کے تحت واجب الادا سرکاری قرضوں کی کٹوتی سے مشروط ہو سکتی ہے۔
محکمہ خارجہ یا محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے شرائط پوری ہونے کی تصدیق کے بعد متعلقہ مالیاتی ادارہ بانڈ کی رقم امریکی ڈالر میں اسی ذریعے سے واپس کرے گا جس کے ذریعے ادائیگی کی گئی تھی۔
بانڈ جمع کرانے والے شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ اس کا ادائیگی کا اصل ذریعہ رقم کی واپسی وصول کرنے کے قابل ہو۔ زرِ مبادلہ یا دیگر بینکاری اخراجات ادا کرنے کی ذمہ داری بھی رقم جمع کرانے والے شخص پر ہوگی۔
اس پروگرام کے تحت جمع اور بعد میں منسوخ کیے جانے والے ویزا بانڈز پر کوئی سود ادا نہیں کیا جائے گا۔
بانڈ کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں درخواست دہندہ کو امیگریشن بانڈ منسوخی نوٹس بھی جاری کیا جائے گا، جس میں تصدیق کی جائے گی کہ بانڈ کی تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں۔

بانڈ منسوخ کیسے کرایا جا سکتا ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ بانڈ کے مطابق اگر کوئی ویزا ہولڈر امریکہ کا سفر نہ کرے اور ویزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنا بانڈ منسوخ کرانا چاہے تو وہ امریکہ سے باہر موجود قونصلر حکام سے ملاقات کے لیے وقت لے کر بانڈ کی منسوخی کی درخواست کر سکتا ہے۔
قونصلر افسر ایسی درخواست صرف اسی صورت میں منظور کرے گا جب وہ تصدیق کر لے کہ ویزا ہولڈر نے امریکہ کا سفر نہیں کیا۔
یہ تصدیق ہونے کے بعد قونصلر افسر کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ویزا کو باضابطہ طور پر منسوخ کرے، جس کے بعد بانڈ کی منسوخی کا عمل آگے بڑھایا جا سکے گا۔
ویزا بانڈ کی خلاف ورزی ہوئی تو کیا ہو گا؟
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگر ویزا ہولڈر بانڈ کی کسی شرط یا ضابطے کی سنگین خلاف ورزی کرے تو پوری بانڈ رقم ضبط کر لی جائے گی اور بانڈ جمع کرانے والے شخص کو واپس نہیں کی جائے گی۔
درج ذیل اقدامات بانڈ کی شرائط کی خلاف ورزی تصور کیے جائیں گے:
- ویزا بانڈ فارم میں درج امیگریشن حیثیت کی کسی شرط کی سنگین خلاف ورزی۔
- امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ 248 کے تحت حیثیت میں تبدیلی کی درخواست مقررہ وقت کے بعد جمع کرانا۔
- امریکہ میں مجاز قیام کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقیم رہنا، یا قیام میں توسیع یا حیثیت کی تبدیلی کی بروقت اور درست درخواست مسترد ہونے کے بعد 10 دن کے اندر امریکہ سے روانہ نہ ہونا۔
- غیر تارکِ وطن حیثیت میں توسیع کی درخواست مقررہ وقت کے بعد جمع کرانا۔
- پناہ یا کسی اور قسم کے انسانی تحفظ کے لیے درخواست دینا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگرچہ قیام میں توسیع یا حیثیت میں تبدیلی کی بروقت درخواست دینا بذاتِ خود بانڈ کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا، تاہم امریکی شہریت و امیگریشن سروسز ایسی درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت ویزا بانڈ کی موجودگی کو ایک منفی صوابدیدی عنصر کے طور پر مدنظر رکھ سکتی ہے۔
اگر ویزا ہولڈر نے محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کے فارموں اور اس حتمی ضابطے میں درج شرائط کی بنیادی طور پر پابندی نہ کی تو اس کا مطلب ہو گا کہ بانڈ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور جمع کرائی گئی رقم ضبط کر لی جائے گی۔
اگر خودکار جانچ کے دوران ابتدائی طور پر یہ ظاہر ہو کہ ویزا ہولڈر نے بانڈ کی شرائط پوری نہیں کیں تو معاملہ محکمہ داخلی سلامتی کو بھیج دیا جائے گا۔ حتمی فیصلہ محکمہ داخلی سلامتی کرے گا اور بانڈ جمع کرانے والے شخص کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق متعلقہ فارموں اور حتمی ضابطے میں درج شرائط کی سنگین خلاف ورزی کی صورت میں ویزا بانڈ ضبط کر لیا جائے گا۔