اسلام آباد کی شہید مدنی مسجد کے معاملے پر اسلام آباد انتظامیہ اور علماء ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ مذاکرات کے نتیجے میں انتظامیہ نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ چار ماہ کے اندر مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کر دیا جائے گا۔ اس دوران باقاعدگی سے پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کے لیے عارضی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔
معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ مستقبل میں اسلام آباد میں مساجد سے متعلق کسی بھی اقدام سے پہلے انتظامیہ علماء ایکشن کمیٹی سے مشاورت کرے گی، اور مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ مجلس مشاورت کے دوران انتظامیہ نے واضح کیا کہ دیگر مساجد کو گرانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفیکیشن جعلی ہے اور کسی بھی مسجد کو گرانے کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
علماء کے ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ اسلام آباد انتظامیہ نے مدنی مسجد کو گرانے کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے اور اسی بنیاد پر مسجد کی دوبارہ تعمیر کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ فی الحال اس مقام پر کچی اینٹوں سے بنایا گیا ایک عارضی احاطہ موجود ہے جہاں بارش اور سخت موسم کے باوجود پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی جاری ہے۔
معاہدے پر دستخط جے یو آئی اسلام آباد کے امیر مفتی اویس عزیز اور اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے اے ڈی سی جی صاحبزادہ محمد یوسف نے کیے۔