"میں جا رہا ہوں، تم لوگ پانی میں نہیں آنا"
یہ وہ آخری الفاظ تھے جو بونیر کے گاؤں بشنوئی کے استاد اور رضاکار ظہور رحمان نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہے۔ لمحوں بعد وہ سیلابی ریلے کے بھنور میں گم ہو گئے، لیکن اس سے پہلے وہ کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچا چکے تھے۔
ظہور رحمان کوئی عام شخص نہیں تھے۔ ایک طرف وہ اسکول کے معلم تھے تو دوسری جانب الخدمت فاؤنڈیشن کے سرگرم رضاکار۔ جمعے کی صبح وہ حسبِ معمول تدریس کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ بپھری ہوئی بارش اور پہاڑوں سے اترتا تباہ کن ریلا ان کے گاؤں پر جا گرا۔ گلیوں میں پانی کے ساتھ چٹانیں اور بھاری پتھر بہتے ہوئے آ رہے تھے۔ ایسے میں ظہور نے لمحہ ضائع کیے بغیر بچوں اور عورتوں کو محفوظ چھتوں تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔
محمد اعجاز بتاتے ہیں کہ وہ اپنے کم سن بھتیجوں کے ساتھ پانی میں بہہ گئے تھے۔ "میں نے دیکھا کہ بچے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور ڈوب رہے ہیں، مگر اچانک کسی نے ہمیں سہارا دیا اور اوپر کھینچ لیا۔ وہ ظہور تھے۔" اسی طرح تین بھائیوں محمد اشفاق، محمد طلحہ اور محمد حماد کو بھی ظہور نے اپنی مضبوط گرفت سے پانی سے باہر نکالا۔ اشفاق یاد کرتے ہیں کہ "اس لمحے مجھے لگا جیسے موت میرے سامنے کھڑی ہے، مگر ظہور نے ہمیں کندھوں پر اٹھا کر باہر نکالا۔ یہ کام کوئی عام انسان نہیں کر سکتا تھا۔"
کئی بچے اور خواتین جب محفوظ مکان کی چھت تک پہنچا دیے گئے تو ظہور نے مہمان کے ایک موٹر سائیکل کو بھی پانی کے زور سے بچانے کی کوشش کی۔ لیکن اسی دوران ایک دیوہیکل پتھر ان کی دونوں ٹانگوں سے ٹکرا گیا۔ زخمی ہونے کے باوجود جب گاؤں کے لوگ ان تک پہنچنے لگے تو انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور بلند آواز میں کہا، "میں جا رہا ہوں، تم لوگ پانی میں مت آنا۔" یہ ان کے آخری الفاظ تھے۔
گھنٹوں بعد ظہور رحمان کی لاش دو کلومیٹر دور ملی۔ مگر گاؤں والے آج بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید کئی زندگیاں ختم ہوجاتیں۔ ایک استاد کی کہانی یوں ہیرو کی داستان بن گئی جس نے اپنی جان قربان کر کے دوسروں کو زندگی بخشی۔
یہ المیہ محض ایک گاؤں یا ایک شخص کی قربانی نہیں، بلکہ ایک پورے خطے کے دکھ اور حوصلے کی تصویر ہے۔ بونیر میں صرف ایک دن میں دو سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، لیکن ظہور رحمان کا نام اس آفت کے سیاہ باب میں امید، قربانی اور انسان دوستی کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔