امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد زیادہ تر محصولات کو غیرقانونی دے دیا ہے۔ عدالت کا فیصلہ ریپبلکن صدر کے بین الاقوامی معیشت پر اثرانداز ہونے کے اس پالیسی اقدام کو کمزور کر سکتا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عدالت نے نئے ٹیرفز کو 14 اکتوبر تک برقرار رہنے کی اجازت دی ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کو ’انتہائی متعصب‘ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’اگر یہ ٹیرفز ہٹا دیے گئے تو ملک کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔‘تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کی مدد سے اپیل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔واشنٹگن ڈی سی کی اپیل کورٹ نے سات چار کے تناست سے فیصلہ سنایا ہے جس میں صدر ٹرمپ کے جوابی ٹیرفز سمیت چین، کینیڈا اور میکسیکو پر عائد اضافی محصولات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹیرفز کو امریکی خارجہ پالیسی کے ایک اہم ستون کے طور پر پیش کیا ہے جنہیں ممالک پر سیاسی دباؤ ڈالنے اور تجارتی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اضافی ٹیرف عائد کرنے سے ٹرمپ انتظامیہ کو تجارتی شراکت داروں سے معاشی مراعات حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جبکہ دوسری جانب اس کے نتیجے میں مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔صدر ٹرمپ نے انٹرنیشل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کو جواز بناتے ہوئے متعدد ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں جو صدر کو ہنگامی حالات میں ’غیرمعمولی‘ خطرات سے نمٹنے کا اختیار دیتا ہے۔تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ ایکٹ نیشنل ایمرجنسی کے دوران صدر کو متعدد اقدامات کی اجازت دیتا ہے لیکن ان میں ٹیرف، ڈیوٹی یا ٹیکس لگانے کا اختیار شامل نہیں ہے۔