یو ایس اوپن میں بچے سے ٹوپی چھیننے کا واقعہ، ٹینس سٹار کی اپنے ننھے فین سے ملاقات

image
امریکی شہر نیو یارک میں کھیلے گئے یو ایس ٹینس میچ کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھلاڑی کامل مائیشراک اپنی ٹوپی ایک ننھے فین کو دیتے ہیں لیکن ساتھ کھڑا شخص چھین کر اپنے بیگ میں ڈال لیتا ہے۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد صارفین نے بھی کھل کر تبصرے کیے اور بچے کے ساتھ اس رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

نیویارک پوسٹ کا کہنا ہے کہ بچے سے ٹوپی چھینے والے شخص کی شناخت ہو گئی ہے جو دراصل ایک کمپنی کے سربراہ ہیں اور ان کا نام پیوٹر شیزرک ہے۔  

سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد پیوٹر شیزرک نے اپنے تمام اکاؤنٹس بند کر دے ہیں۔

یہ ویڈیو جب ٹینس سٹار تک پہنچی تو انہیں معلوم ہوا کہ اپنی کیپ جو انہوں نے بچے کو دی تھی وہ دراصل اس سے چھین لی گئی تھی۔

یو ایس اوپن ٹینس میچ سنیچر کو نیو یارک میں کھیلا گیا تھا جس میں پولینڈ کے کھلاڑی کامل مائیشراک نے روسی کھلاڑی کو شکست دی تھی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیت کے بعد کامل مائیشراک ٹینس کورٹ میں بیٹھے شائقین کے پاس جاتے ہیں اور آٹو گراف دیتے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے شائقین میں موجود ایک بچے کو اپنی کیپ دے دی جو ساتھ کھڑے ایک شخص نے فوراً ہی چھین لی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے اور بظاہراً اس شخص سے ٹوپی واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔

Man snatches hat tennis player Kamil Majchrzak was handing to a young boy, leaving the boy on the verge of tears.

The man could be seen snatching the cap and stuffing it in a bag while smiling as the boy appeared distressed.

pic.twitter.com/tbKz89jSoG

— Oli London (@OliLondonTV) August 29, 2025

گزشتہ روز جب اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ٹینس سٹار نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے فینز سے اپیل کی کہ وہ بچے کی تلاش میں ان کی مدد کریں۔

کچھ دیر بعد انہوں نے ایک اور پوسٹ میں اپنے  فالوورز کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ بچہ مل گیا ہے۔

سنیچر کو ہی کامل مائیشراک نے بچے سے ملاقات کی اور دیگر تحائف کے ساتھ اپنی بلیو رنگ کی ٹوپی بھی تحفے میں دی۔

انہوں نے انسٹاگرام سٹوری پر بچے کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو بھی پوسٹ جس میں بچے نے ٹوپی پہن رکھی ہے۔

 


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US