پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق گزشتہ 6 گھنٹے کے دوران مختلف بیراجوں پر پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پنجند بیراج پر پانی کی آمد و اخراج 384,124 کیوسک ریکارڈ ہوا جو گزشتہ 6 گھنٹے میں 177,685 کیوسک اضافہ ہے۔ اسی طرح تریموں بیراج پر 74,075 کیوسک اضافہ ہوا اور آمد و اخراج 449,668 کیوسک رہا۔
گڈو بیراج پر پانی کی آمد 365,588 کیوسک اور اخراج 327,959 کیوسک رہا جبکہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 329,800 کیوسک اور اخراج 280,190 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 243,055 کیوسک جبکہ اخراج 222,500 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
دریاؤں میں پانی کی بڑھتی سطح کے پیش نظر صوبائی وزیر زراعت و فوکل پرسن لیفٹ بینک، سردار محمد بخش خان مہر نے گھوٹکی میں قادرپور شینک بند کا دورہ بھی کیا اور کچے کے علاقے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
ڈائریکٹر سیڈا نے بریفنگ میں بتایا کہ 9 ستمبر تک 5 سے 7 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے جس کے لیے انتظامیہ نے حفاظتی بندوں کی مضبوطی کا کام تیز کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گڈو میں ڈھائی لاکھ اور پنجند پر ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی موجود ہے اور اندازہ ہے کہ پانی گزر جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک پانی گزر چکا ہے اور قادرپور شینک بند، منگلی اور قادرپور لوپ بند پر مرمتی کام جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ شینک بند کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔
سردار محمد بخش خان مہر نے کہا کہ ہماری تیاری 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی کی ہے اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رکھا گیا ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے موبائل اسپتال، میڈیکل اور ویٹنری کیمپس کا بھی جائزہ لیا اور متاثرین کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔