’میں استعفیٰ نہیں دوں گا‘: مسعود پزشکیان کو مجتبی خامنہ ای کے ساتھ اختلاف کی افواہوں پر وضاحت کیوں دینا پڑی؟

ویڈیو میں ایرانی صدر پزشکیان نے فوجی کمانڈروں کے ساتھ اختلافات کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ’فوجی قوتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی‘ میں ہے۔

ایران کے صدر نے اپنے استعفے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔

اپنی صدارت کی دوسری سالگرہ کے موقع پر ایک ویڈیو بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’اگر میں استعفیٰ دینا چاہوں گا تو باضابطہ طور پر اعلان کروں گا کہ میں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں استعفیٰ نہیں دوں گا، میں ڈٹا رہوں گا۔‘

ویڈیو میں پزشکیان نے فوجی کمانڈروں کے ساتھ اختلافات کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ’فوجی قوتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی‘ میں ہے۔

ایرانی صدر نے یہ قیاس آرائیاں بھی مسترد کر دیں کہ ان کے اور مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان کوئی اختلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ رہبر اعلیٰ ایک بات کہتے ہیں اور یہ دوسری بات کہتے ہیں۔‘

پزشکیان کے استعفے کی افواہیں ان کی صدارت کے دوران گزرنے والے دو برسوں میں وقفے وقفے سے گردش کرتی رہی ہیں۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر بیک وقت حملے اور 29 فروری کو علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ افواہیں ایرانی سیاسی حلقوں میں کم وقفوں سے پھیل رہی ہیں۔

پزشکیان کی جانب سے استعفے کی افواہ کی تردید پر مبنی ویڈیو جاری ہونے سے چند گھنٹے قبل ایرانی صدر کے دفتر کے ایک سینیئر رکن نے ایسی خبروں کو ’جھوٹ اور جعلی‘ قرار دیا تھا۔

ایرانی صدر کے دفتر کے نائب برائے مواصلات و اطلاعات نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’جھوٹوں اور انتہا پسندوں کے مکروہ اتحاد نے مقدس اتحاد اور قومی یکجہتی کو نشانہ بنایا ہے۔‘

اس سے قبل رہبر اعلی کے خاندان کے قریب سمجھے جانے والے ایک عالم دین محمد باقر خرازی کے پزشکیان سے متعلق بیانات کو ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وسیع کوریج ملی تھی۔

خرازی نے کہا تھا کہ ایران کے رہبر اعلی نے ’لکھا تھا کہ اگر پزشکیان ایک بار پھر استعفیٰ دیتے ہیں تو ہم ان کا استعفیٰ قبول کر لیں گے۔‘

محمد باقر خرازی، اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلی کے چھوٹے بھائی مسعود خامنہ ای کے بہنوئی ہیں۔

تقریباً دو ماہ قبل پزشکیان اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کے درمیان اختلافات اور ان کے استعفے کے بارے میں وسیع افواہیں پھیلی تھیں۔ تاہم جب معاملہ زیادہ پھیل گیا تو ایرانی صدر کے دفتر کے دو سینیئر عہدیداروں نے تردید کی کہ ان کے اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کے درمیان کوئی تنازع موجود نہیں ہے۔

ایرانی صدر کے دفتر کے شعبۂ مواصلات و اطلاعات کے نائب نے کہا تھا کہ ’استعفیٰ دینا پزشکیان کی فطرت میں نہیں‘ اور مزید کہا تھا کہ ’ملک کو درپیش مشکل حالات انھیں استعفے کے بارے میں سوچنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ دو برسوں میں حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کے استعفے کے بارے میں بہت سی خبریں آئی ہیں۔ لیکن یہ سب ’بے بنیاد‘ تھیں۔

طباطبائی نے ان خبروں کو ’جعلی خبریں اور میڈیا کی افواہیں‘ قرار دیا جو ’ہر بار اس وقت سامنے آتی ہیں جب میڈیا کے پاس کوریج کے لیے کوئی موضوع نہیں ہوتا۔‘

علیحدہ بیانات میں ایرانی صدر کے دفتر کے سربراہ محسن حاجی میرزایی نے کہا کہ پزشکیان اور پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈروں کے درمیان ’کوئی اختلاف‘ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’تمام منعقدہ اجلاسوں میں کمانڈر اور خود صدر موجود تھے اور تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے۔‘

بحرانوں سے بھرپور صدارتی دور

جنگ کے آغاز کے بعد سے ہونے والی بعض ریلیوں میں، جن میں حکومت کے حامیوں نے شرکت کی، ایرانی صدر اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان، جیسے وزیر خارجہ عباس عراقچی، کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ان تنقیدوں کا دائرہ اس وقت بڑھ گیا جب رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک خط میں کہا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بارے میں ان کی مختلف رائے تھی۔ لیکن پزشکیان کی جانب سے ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد انھوں نے اس پر دستخط کی اجازت دے دی تھی۔

پزشکیان جولائی 2024 میں ہونے والے قبل از وقت صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے اور ایران کے صدر بنے۔

صدارتی انتخابات 2025 میں ہونا تھے لیکن اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے باعث یہ قبل از وقت منعقد کیے گئے۔

پزشکیان اس وقت مجلسِ شوریٰ اسلامی کے رکن تھے جنھیں کچھ عرصہ قبل گارڈین کونسل نے نااہل قرار دیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے اعلان کیا کہ اس وقت کے اسلامی جمہوریہ کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے گارڈین کونسل سے اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کو کہا تھا۔

انھوں نے پہلے 2013 میں بھی صدارتی انتخاب لڑا تھا لیکن بعد میں دستبردار ہو گئے تھے۔

گارڈین کونسل نے 2021 کے صدارتی انتخابات کے لیے ان کی اہلیت کی منظوری نہیں دی تھی۔

پزشکیان، جنھوں نے ایسے وقت میں عہدہ سنبھالا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا، گذشتہ دو برسوں میں ایک ہنگامہ خیز صدارت سے گزرے ہیں۔

اس میں ایک سال سے کم عرصے میں دو جنگیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلی کی غیر ملکی حملے میں ہلاکت اور ملک کے اندر احتجاج کا ایک غیر معمولی دور شامل ہے جس کا حکومت نے غیر معمولی کریک ڈاؤن کے ذریعے جواب دیا۔

ان کی صدارت کی مدت ختم ہونے میں ابھی تقریباً دو سال باقی ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US