کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ان کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے جبکہ مالی لین دین سے متعلق شواہد کی بنیاد پر 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق موبائل ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ واقعے سے چند گھنٹے قبل میر رضا نے اپنے ایک دوست سے 3 کروڑ روپے ادھار مانگے تھے اور خود کو شدید مالی مشکلات میں بتایا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ واقعے کی رات میر رضا کی منگیتر نے انہیں متعدد پیغامات بھیجے تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا مختلف مالی معاملات میں الجھے ہوئے تھے اسی لیے ان سے لین دین رکھنے والے افراد سے بھی تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد پر کروڑوں جبکہ دیگر پر لاکھوں روپے واجب الادا تھے۔
دوسری جانب ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں میر رضا کو راستے میں اپنی جیب سے ایک چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کا شبہ ہے کہ یہ ان کا موبائل فون تھا جو بعد میں ایک شہری کی اطلاع پر برآمد کر لیا گیا۔ موبائل کا فرانزک تجزیہ جاری ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد، مالی ریکارڈ، ڈیجیٹل ڈیٹا اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی تھی یا قتل۔