لاہور کے تھانے میں لڑکی کا مبینہ ریپ: ملزم اے ایس آئی کا چار روزہ ریمانڈ، ایس ایچ او سمیت 78 پولیس اہلکار معطل

منگل کو لاہور پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ معطل ہونے والے پولیس اہلکاروں میں دو سب انسپکٹرز، آٹھ اے ایس آئیز (اسسٹنٹ سب انسپکٹرز) اور تھانے کا دیگر عملہ شامل ہے۔
Lahore Police Rape
Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ایک تھانے کے اندر لڑکی کے ساتھ مبینہ ریپ کے الزام پر گرفتار اے ایس آئی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ غفلت برتنے پر تھانہ غازی آباد کے ایس ایچ او (سٹیشن ہاؤس افسر) سمیت 78 اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

منگل کو لاہور پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ معطل ہونے والے پولیس اہلکاروں میں دو سب انسپکٹرز، آٹھ اے ایس آئیز (اسسٹنٹ سب انسپکٹرز) اور تھانے کا دیگر عملہ شامل ہے۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن نوید قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر یہ واقعہ تھانے کے اندر پیش آیا ہے اور اس معاملے پر ملزم اے ایس آئی سے تفتیش جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروایا گیا ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

اس سے قبل تھانہ غازی آبادپولیس نے لڑکی کے والد کی مدعیت میں ریپ کا مقدمہ درج کر کے ایک اے ایس آئی کو گرفتار کیا تھا جو کہ اب ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔

مقدمے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ذہنی طور پر معذور 19 سے 20 سالہ لڑکی دو اگست کو گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد کئی گھنٹوں بعد واپس آئی تھی۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا کہنا ہے کہ ’ناقص نگرانی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔‘

Rape Lahore
Getty Images

ایف آئی آر میں کیا ہے؟

اس مقدمے کی ایف آئی آر تھانہ غازی آباد میں ہی درج کی گئی ہے جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ) اور 155 سی (پولیس اہلکار کے مس کنڈکٹ) جیسی دفعات لگائی گئی ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ لڑکی دو اگست (اتوار) کو دن ایک بجے گھر سے نکلی اور کافی دیر تک واپس نہ آنے پر اس کی تلاش شروع کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق فیصل یوسف نامی ایک شخص نے بتایا کہ لڑکی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس اہلکار ساتھ لے گیا ہے جس پر لواحقین جب تھانہ غازی آباد پہنچے تو پتا چلا کہ لڑکی گھر واپس آ گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق لواحقین جب گھر پہنچے تو لڑکی رو رہی تھی۔ ’وجہ پوچھی تو اُس نے بتایا کہ اسے پولیس والا اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر لے گیا تھا اور اس نے میرے ساتھ ریپ کیا۔‘

’اے ایس آئی بغیر کسی وجہ کے لڑکی کو تھانے کے اندر لایا‘

ایس ایس پی نوید قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ پتا چلا ہے کہ لڑکی بھیک مانگتی تھی تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ تھانے کے اندر پیش آیا ہے اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جس سے تفتیش میں مدد ملے گی۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ اے ایس آئی بغیر کسی وجہ کے لڑکی کو تھانے کے اندر لے کر آیا جو مس کنڈکٹ ہے۔‘

اُنھوں نے تسلیم کیا کہ لڑکی نہ تو ملزم تھی اور نہ ہی کسی کیس میں مطلوب تھی، اسے تھانے میں لانا ’غلط‘ تھا۔

ایس ایس پی نوید قریشی کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کوئی اور پولیس اہلکار ملوث نہیں ہے۔

Lahore Police
Getty Images

’غیر ذمہ دارانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے‘

اس واقعے پر ڈی آئی جی آپریشنز کے احکامات پر معطل کیے جانے والوں میں تھانہ غازی آباد کے محرر اور ڈرائیورز بھی شامل ہیں جبکہ علی زیب دستگیر کو نیا ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا ہے۔

لاہور پولیس کے مطابق معطل ہونے والے پولیس اہلکاروں میں دو سب انسپکٹرز، آٹھ اے ایس آئیز (اسسٹنٹ سب انسپکٹرز) اور تھانے کا دیگر عملہ شامل ہے۔ معطل ہونے والے اہلکاروں کی کل تعداد 78 بتائی گئی ہے۔

ایکس پر لاہور پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ تھانے کا مجموعی نظم و ضبط اور ماحول برقرار رکھنا ایس ایچ او سمیت ہر اہلکار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ناقص نگرانی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل تھانے کی سطح سے یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام دوست اور ذمہ دار پولیس کلچر قائم کیا جا سکے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US