ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا غیر معمولی آپریشن جس سے پیدائشی عارضے کا علاج ممکن ہوا

ڈاکٹروں نے ماں کے رحم میں موجود ایک بچے پر اپنی نوعیت کی پہلی سرجری کی ہے جس کے ذریعے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی خرابی کی تصحیح کر دی گئی اور بچے کی پیدائش نارمل ڈیلیوری کے ذریعے ہوئی۔
نوزائیدہ بچہ سفید نقش و نگار والے اسپتال کے کمبل میں لپٹا ہوا ہے اور سفید اُونی ٹوپی پہنے ہوئے ہے، اسے ہسپتال کے بستر پر بیٹھی ایک شخصیت کے سینے سے لگایا گیا ہے۔ اس شخصیت کے ہاتھ میں ہسپتال کا شناختی بینڈ ہے اور ایک کلائی پر چپکنے والی پٹی لگی ہوئی ہے۔ بستر کے گرد سفید چادریں اور تکیے موجود ہیں۔ سفید قمیض پہنے ایک اور شخص جزوی طور پر نظر آ رہا ہے جو ان کے پاس بیٹھا ہے۔ پس منظر میں ہسپتال کے کمرے میں سنک، کاؤنٹر اور ذخیرہ کرنے کی جگہ موجود ہے جہاں طبی اور ذاتی اشیا رکھی گئی ہیں۔
Maisie Savage
بچے کا آپریشن اس وقت کیا گیا جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا

ڈاکٹروں نے ماں کے رحم میں موجود ایک بچے پر اپنی نوعیت کی پہلی سرجری کی ہے جس کے ذریعے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی جینیاتی خرابی کی تصحیح کر دی گئی اور بچے کی پیدائش نارمل ڈیلیوری کے ذریعے ہوئی۔

’تھیو‘ نامی بچے کی والدہ لندن سے تعلق رکھنے والی میزی سیویج 26 ہفتوں سے حاملہ تھیں جب امریکہ میں ڈاکٹروں نے یہ آپریشن کیا۔

اب تھیو کی عمر پانچ ماہ ہے اور وہ صحت مند ہیں۔ وہ گیسٹروسکیسس نامی ایسی حالت میں مبتلا تھے جس میں ناف درست طور پر نشوونما نہیں پاتی جس کے باعث آنتیں جسم کے باہر بڑھنے لگتی ہیں۔

ڈاکٹروں نے ان کی والدہ کے رحم کو جزوی طور پر ظاہر کیا اور پھر ’کی ہول سرجری‘ کے ذریعے نہایت احتیاط سے بچے کے اعضا دوبارہ پیٹ کے اندر منتقل کر دیے۔

یہ دنیا کا تیسرا بچہ ہے جسے اپنی نوعیت کے پہلے کلینیکل ٹرائل سے فائدہ پہنچا۔

بچے کی 29 سالہ والدہ میزی اور 36 سالہ والد جوش فرنچ دونوں اساتذہ ہیں۔ فرنچ کہتے ہیں کہ وہ اس سرجری کی کامیابی پر بے حد مطمئن ہیں۔ میزی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک ننہا معجزہ ہے، ہے نا؟‘

لیکن دونوں جانتے ہیں کہ حالات بہت مختلف بھی ہو سکتے تھے۔

یہ سنگین پیدائشی نقص ہر سال برطانیہ میں پیدا ہونے والے تقریباً 3,000 بچوں میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے۔

2025 میں شائع ہونے والے ایک عالمی جائزے میں زیادہ اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی تحقیقات شامل تھیں۔ اس کے مطابق دنیا بھر میں گیسٹروسکیسس کی شرح خطوں کے لحاظ سے بہت مختلف ہے۔ سب سے زیادہ کیسز جنوبی امریکہ میں رپورٹ ہوتے ہیں۔

کم آمدنی والے ممالک سے متعلق اعداد و شمار محدود ہیں۔

بہترین صورتِ حال میں بھی بچوں کو کئی ہفتے انتہائی نگہداشت میں رہنا پڑ سکتا ہے، نالی یا آئی وی کے طریقے سے غذائیت دی جا سکتی ہے اور اصلاحی سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تھیو جیسے انتہائی پیچیدہ کیسز کہیں زیادہ سنگین ہوتے ہیں، جن میں چھ ماہ تک نوزائیدہ انتہائی نگہداشت، متعدد سرجریاں، دو سال تک آئی وی غذائیت اور ممکنہ طور پر آنتوں کی پیوندکاری شامل ہو سکتی ہے۔

اعلیٰ ترین طبی نگہداشت کے باوجود بھی ہر 10 میں سے ایک بچہ جان کی بازی ہار جاتا ہے۔

نوزائیدہ بچہ تصویر کے سامنے والے حصے میں نیلی اور سفید دھاریوں والے کمبل پر لیٹا ہوا ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہیں اور منہ کھلا ہوا ہے۔ اس نے سفید لباس پہن رکھا ہے جس پر سرمئی ہاتھیوں کا نقش ہے اور وہ اسی ڈیزائن والے کمبل سے جزوی طور پر ڈھکا ہوا ہے۔ تصویر قریب سے لی گئی ہے جس میں بچے کا سر، چہرہ، اوپری جسم اور ایک ڈھکا ہوا ہاتھ نظر آ رہا ہے۔ پس منظر میں ہلکے رنگ کے کپڑے اور چھوٹے پرنٹ والے نرم بستر موجود ہیں۔
Texas Children’s Hospital
تھیو گیسٹروسکیسس کے علاج کے لیے رحم میں آپریشن کروانے والا پہلا برطانوی بچہ ہے

تھیو کے والدین کو ابتدائی طور پر اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ رحم میں موجودگی کے دوران وہ کسی عارضے میں مبتلا ہیں۔

جوش نے کہا کہ ’20 ہفتوں کے سکین کے قریب ہم صرف اپنے بچے کی تصویر دیکھنے کے لیے پُرجوش تھے۔‘

’اس وقت ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ لڑکا ہے۔‘

جوش نے کہا کہ تھیو میں گیسٹروسکیسس کی تشخیص ایک صدمے سے کم نہ تھی اور یہ ’بہت خوفناک‘ تجربہ تھا۔

حمل کے 24ویں ہفتے میں لندن کے گریٹ اورمنڈ سٹریٹ ہسپتال (گوش) کے ماہر ڈاکٹر میزی اور جوش کو اس بارے میں تیار کر رہے تھے کہ تھیو کی زندگی کے ابتدائی چھ ماہ کیسے گزر سکتے ہیں۔

تاہم جب معلوم ہوا کہ اسے پیچیدہ گیسٹروسکیسس جیسی زیادہ سنگین حالت لاحق ہے تو ڈاکٹروں نے اسے ہیوسٹن میں واقع ٹیکساس چلڈرنز ہسپتال بھیج دیا۔

وہاں ڈاکٹر مائیکل بیلفورٹ کی سربراہی میں جنینی اور اطفال سرجنوں کی ایک ٹیم پیدائش سے قبل پیچیدہ گیسٹروسکیسس سے نمٹنے کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے کلینیکل ٹرائل کی قیادت کر رہی تھی۔

ٹرائل کے کلینیکل سربراہ بیلفورٹ اس سے پہلے سپائنا بائفیڈا کے شکار بچوں پر رحم کے اندر ملتی جلتی سرجری متعارف کرا چکے تھے۔

نوزائیدہ بچہ تصویر کے سامنے والے حصے میں سفید اُونی ٹوپی پہنے اور رنگین کارٹون پرنٹس والے سفید اسپتالی کمبل میں لپٹا ہوا ہے۔ اسے اسپتال کے بستر پر سیدھا بیٹھی ایک شخصیت کے سینے سے لگایا گیا ہے۔ اس شخصیت کے بازو میں آئی وی کینولا اور نلکی لگی ہوئی ہے۔ ایک اور شخص ہلکے رنگ کی آدھی آستین والی قمیض میں بستر کے ساتھ بیٹھا ہے، جس کا ایک ہاتھ کمبل پر رکھا ہے اور کلائی پر اسمارٹ واچ ہے۔ پس منظر میں سفید بستر، تکیے، الماریاں، صوفہ، طبی آلات اور کھڑکیوں والا اسپتال کا کمرہ نظر آتا ہے۔
Maisie Savage
آپریشن کے بعد تھیو حمل کی کُل مدت تک رحم میں رہے اور ٹیکساس میں پیدا ہوئے

میزی کو بتایا گیا کہ انھیں فوراً ٹیکساس جانا ہوگا اور حمل کے باقی عرصے کے لیے وہیں رہنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا۔‘

ٹرائل کے حصے کے طور پر انھیں پہلے بیلجیئم کے شہر لووین کے ہسپتال جانا پڑا جہاں ماہرین نے رحم کے ذریعے تھیو کے پیٹ کی دیوار میں بوٹوکس انجیکشن لگایا تاکہ پٹھے ڈھیلے ہوں اور سرجری آسان ہو سکے۔

اس کے بعد خاندان ٹیکساس روانہ ہوا جہاں گذشتہ سال نومبر کے دوران حمل کے 26ویں ہفتے میں آپریشن کیا گیا۔

جوش نے کہا کہ میزی کے آپریشن کے دوران انتظار کرنا انتہائی اذیت ناک تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس دن کی طوالت ایک ہفتے جیسی محسوس ہو رہی تھی۔ انتظار اور ہر مرحلے پر یہ نہ جاننا کہ آخر کیا ہو رہا ہے۔‘

میزی کے رحم کو جزوی طور پر ظاہر کیا گیا تاکہ رحم اور بچے کی مناسب پوزیشن بنائی جا سکے۔ امینیوٹک مائع نکال کر اس کی جگہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھری گئی تاکہ آپریشن کے لیے جگہ وسیع ہو سکے۔

کی ہول سرجری کے ذریعے تھیو کے اعضا کو آرام اور احتیاط کے ساتھ دوبارہ پیٹ کے اندر منتقل کیا گیا اور پھر چیرا سی دیا گیا۔

میزی کے جسم پر سی سیکشن کے مقابلے تقریباً دو گنا بڑا نشان باقی ہے۔

لیکن سی سیکشن سے صحت یاب ہونے والی دوسری خواتین کے برعکس انھیں مزید 14 ہفتوں تک اپنے اندر بچے کی پرورش بھی کرنا تھی۔

انھوں نے کہا کہ تھیو اکثر رحم میں حرکت کرتے ہوئے ان کے زخم کے نشان پر لات مارتے اور انھیں تکلیف ہوتی تھی۔

میزی نے کہا کہ ’صحت یابی کا عمل مشکل تھا۔ لیکن یہ اس کے مستحق تھا۔‘

آپریشن مکمل طور پر کامیاب رہا اور تھیو مکمل مدتِ حمل کے بعد فروری میں ٹیکساس میں نارمل ڈیلیوری کے ذریعے پیدا ہوئے۔

ٹیکساس چلڈرنز ہسپتال میں شعبۂ امراضِ نسواں و زچگی کے سربراہ بیلفورٹ نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم اب تک کے نتائج سے بہت خوش ہیں۔

’ماں، بچہ، سرجری، سرجری کا وقت اور یہ حقیقت کہ سرجری کے دوران اور اس کے بعد ہمیں ایک بھی پیچیدگی کا سامنا نہیں ہوا، واقعی غیر معمولی ہے۔‘

تصویر کے سامنے طبی عملہ سرجیکل لباس، ماسک اور سر ڈھانپنے والی ٹوپیاں پہنے آپریشن ٹیبل کے گرد موجود ہے۔ درمیان میں ایک شخص چشمہ، ماسک اور سرجیکل ٹوپی پہنے ہوئے ہے جس پر
Texas Children’s Hospital
بیلفورٹ نے کہا کہ وہ سرجری کے نتائج دیکھ کر حیران رہ گئے

اگر یہ ٹرائل کامیاب ثابت ہوتا ہے تو گوش میں اطفال سرجری کے پروفیسر اور یونیورسٹی کالج لندن میں سٹیم سیلز اور ری جنریٹو میڈیسن کے سربراہ پاؤلو دے کوپی یہ طریقہ کار برطانیہ میں انجام دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہم بہت جلد یہ سہولت زیادہ بڑے پیمانے پر مریضوں کو فراہم کر سکیں گے۔‘

بیلفورٹ اس شراکت داری کو لے کر پُرجوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیکساس چلڈرنز اور گوش کا مل کر کام کرنا ایک مضبوط ٹیم ثابت ہوگا۔

اور بیلفورٹ پہلے ہی اگلے مراحل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اب رحم کا اندرونی حصہ سرجری میں نئی جدت کا مقام بن چکا ہے۔‘

’سپائنا بائفیڈا اور گیسٹروسکیسس صرف دو مثالیں ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہم حقیقت میں رحم کے اندر بعض قلبی سرجریاں بھی کر سکتے ہیں اور کچھ پھیپھڑوں کی سرجریاں بھی۔‘

تصویر کے سامنے ایک سویا ہوا بچہ سفید لمبی آستین والی قمیض اور نیلے ڈنگری لباس میں ایک بیٹھے ہوئے بالغ کی گود میں لیٹا ہوا ہے، جس نے گلابی بُنا ہوا کارڈیگن پہن رکھا ہے۔ ساتھ میں ایک اور بالغ گہرے سبز رنگ کی آدھی آستین والی قمیض پہنے بیٹھا ہے اور اس کا بازو پہلے بالغ کے پیچھے رکھا ہوا ہے۔ دونوں ایک ہلکے رنگ کے صوفے پر نقش دار کشنوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے کپڑوں پر چھوٹے کلِپ آن مائیکروفون لگے ہوئے ہیں۔ پس منظر میں ہلکے رنگ کی سادہ دیوار ہے۔
BBC
میزی، جوش اور تھیو اب گھر میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں

لندن واپس اپنے گھر میں میزی نے کہا کہ تھیو بہت اچھی حالت میں ہیں۔

ان کے بقول تھیو نے ’اپنی زندگی کے ممکنہ طور پر بہت مشکل آغاز کو مکمل طور پر بدل دیا اور یہ بہترین ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک بالکل نارمل بچہ ہے۔‘

جوش نے کہا کہ ’ہم دونوں خود کو بے حد خوش قسمت سمجھتے ہیں۔

’ایک خاندان کے طور پر ہم پر اس کے اثرات ناقابلِ بیان ہیں۔ گریٹ اورمنڈ سٹریٹ کی ٹیم سے لے کر ڈاکٹر بیلفورٹ اور ان کی ٹیم تک، سب نے ہمیں بہت خوش آمدید محسوس کرایا۔

’جب ہم وہاں تھے تو نگہداشت کا معیار حیرت انگیز تھا اور انھوں نے ہماری زندگی کے ایک نہایت صدمہ خیز دور کو بہت آسان بنا دیا اور اب ہمارے پاس یہ ننھا سا بچہ ہے۔ ہم اس سے زیادہ خوش نہیں ہو سکتے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US