خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن کے علاقے کنڈاکو ڈھیری میں خوفناک سانحہ پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی جان لے لی۔ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب اہلِ خانہ رات کے وقت سو رہے تھے اور حملہ آور اچانک گھر میں داخل ہوئے۔ فائرنگ کی آوازوں نے علاقے کو دہلا دیا اور چند لمحوں میں پورا خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گیا۔
لیویز پوسٹ خار میں درج رپورٹ کے مطابق نازیہ بی بی نے پولیس کو بتایا کہ حملہ کرنے والے منصور، شریف اللہ اور ظریف اللہ تھے جو زیب اللہ کے بیٹے اور میخ بند کے رہائشی ہیں۔ اس کے بیان میں کہا گیا کہ ملزمان نے اندھا دھند گولیاں برساکر اس کے والد شاہ زمین، دادا سعید گل، والدہ عامر زاد گئی، دادی مہر زمینہ اور بہن نازش کو موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
نازیہ بی بی کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب اس کی بہن نازش اور شوہر کے درمیان رشتے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد علیحدگی ہو چکی تھی اور اسی پر یہ خونی کھیل کھیلا گیا۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر ریاض محسود، صوبیدار میجر سمیع اللہ باچا اور پوسٹ کمانڈر فضل اکبر بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پہنچے اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔
اس اندوہناک حادثے نے علاقے میں سوگ کی فضا قائم کردی۔ لوگ گلی کوچوں میں غمزدہ نظر آئے اور ایک ہی گھر سے پانچ جنازے اٹھنے پر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ مقامی آبادی نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔