وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہی۔
عبدالعلیم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات نئے صوبوں کے قیام کو قومی ضرورت بنا چکی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سندھ سمیت ملک کے چاروں صوبوں کو تین تین انتظامی حصوں میں تقسیم کیا جائے جنہیں شمالی، وسطی اور جنوبی زونز کے نام سے تشکیل دیا جا سکتا ہے تاہم ان کی صوبائی شناخت برقرار رکھی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس نئے انتظامی ڈھانچے سے عوامی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوگی حکومتی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور چیف سیکریٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس اپنے اپنے محدود دائرہ کار میں زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام پر دہائیوں سے سیاست اور نعرے بازی تو ہوتی رہی ہے لیکن عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سنجیدہ اور مشاورتی بنیادوں پر اس سمت میں عملی پیش رفت کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام پاکستان کو تقسیم نہیں کرے گا بلکہ قومی یکجہتی کو مضبوط، اقتصادی نظم و نسق کو بہتر اور متوازن علاقائی ترقی کے ذریعے استحکام کو فروغ دے گا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ہمیں ایسے انتظامی طور پر مؤثر اور عوام دوست صوبے بنانے کی ضرورت ہے جہاں ہر شہری کی آواز سنی جائے اور اس کے مسائل اس کی دہلیز پر حل ہوں۔