ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کے معاملے پر پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) اور وزارتِ پیٹرولیم کے درمیان طے پانے والا 15 روزہ وقت ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے پیر کے روز اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں ملک گیر ہڑتال اور پیٹرول پمپس کی بندش کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں پی پی ڈی اے نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو ایک ہنگامی خط ارسال کیا ہے جس میں درپیش مسائل پر فوری پیش رفت اور ان کی ذاتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی (ڈیلی پرائس ایڈجسٹمنٹ) کے باعث ڈیلرز کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ اس سے اسٹاک پر مالی نقصان ہوتا ہے اور ورکنگ کیپیٹل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین طارق حسن کے مطابق موجودہ نظام کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے پیٹرولیم ڈیلرز کے لیے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، اور اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو ملک بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ دوسری جانب پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین انور کمال نے واضح کیا کہ ڈیلرز حکومت کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے بلکہ ان تمام درپیش مسائل کا ایک قابلِ عمل حل چاہتے ہیں۔