وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں موجود 79 کروڑ 42 لاکھ روپے کو دوبارہ سرمایہ کاری میں لگانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ یہ رقم نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی جائے۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو اس ضمن میں فوری اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے تاکہ رقم کو محفوظ اور منافع بخش انداز میں استعمال میں لایا جاسکے۔
عدالتی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ رقم کی آخری مرتبہ سرمایہ کاری 4 ستمبر 2025 کو ٹریژری بلز میں کی گئی تھی، جس کے بعد اب دوبارہ سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ حکم چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جاری کیا۔