پنجاب میں سرکاری اسپتالوں کی ناقص کارکردگی پر صوبائی حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے چند روز کے اندر آٹھ بڑے اسپتالوں کے سربراہان کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر قائم انسپیکشن ٹیموں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے یہ کارروائی عمل میں لائی۔
ذرائع کے مطابق ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر اعجاز احمد بٹ کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نیگر عمران حیدر کو بھی ناقص انتظامی کارکردگی پر ہٹا دیا گیا۔ دیگر ہسپتالوں کے سربراہان کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
انسپیکشن ٹیموں کی رپورٹس میں ہسپتالوں میں ادویات کی قلت، صفائی کے ناقص انتظامات، مریضوں کو بروقت سہولیات کی عدم فراہمی، انتظامی کمزوریوں اور شکایات کے ازالے میں ناکامی جیسے سنگین امور کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق بعض ہسپتالوں میں حکومتی فنڈز کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان پایا گیا۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کو عہدوں پر برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے ایم ایس افسران کی جگہ عبوری طور پر نئے افسران تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ بعض کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی کا بھی امکان ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہسپتالوں میں نظم و نسق کی بہتری، مریضوں کے مسائل کا فوری حل اور شفاف نظام اولین ترجیح ہے۔
صوبائی حکومت کی اس کارروائی کو صحت کے شعبے میں اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محض افسران کی تبدیلی کے بجائے نظامی اصلاحات اور مسلسل نگرانی بھی ناگزیر ہے۔