حکومتِ سندھ کی جانب سے ترجمان سکھدیو ہمنانی نے ضلع بدین کے علاقے تلہار میں نوجوان کیلاش کوہلی کے بے دردی سے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے ایک وحشیانہ اور دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا۔
ہمنانی نے ایک معصوم جان کے ضائع ہونے پر گہرا دکھ اور افسوس ظاہر کیا اور مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل سے پوری ہندو برادری میں شدید غم و رنج اور خوف پیدا ہوا ہے۔ ”حکومتِ سندھ اس غم کے لمحے میں اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور مرحوم کے رشتہ داروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔“
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ سندھ نے اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں اور مجرم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ ہمنانی نے اس بات کی ضمانت دی کہ مجرم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
ترجمان سندھ حکومت سکھدیو ہمنانی نے مزید بتایا کہ بطور رکن سندھ ہیومن رائٹس کمیشن بھی انہوں نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایس ایس پی بدین کو 13 جنوری 2026 تک پولیس کاروائی کی رپورٹ جمع کرانے اور مرحوم و اہلِ خانہ کے لیے انصاف یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
ہمنانی نے کہا کہ بطور ہندو برادری کے رکن انہیں اہلِ خانہ اور برادری کے لوگوں کے درد اور خوف کا مکمل ادراک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیلاش کوہلی کا قتل صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر زخم ہے۔ کسی شہری کو اپنے وطن میں غیر محفوظ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ انصاف کے قیام تک چین نہیں پائے گی۔ حکومت یقینی بنائے گی کہ انصاف قائم رہے اور ذمہ داران کو مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف ہر صورت میں عمل میں آئے گا۔