باغ جناح میں پی ٹی آئی کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ، کئی کارکن زیر حراست

image

کراچی میں نمائش چورنگی پر پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نمائش کے قریب باغ جناح میں مظاہرین کی پولیس موبائل پر پتھراؤ کی فوٹیج بھی سامنے آئی جس میں مشتعل افراد کی جانب سے پولیس موبائل کو روکتے اور پتھراؤ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔

پولیس کے مطابق 30 کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ایک پولیس اہلکار مظاہرین کے تشدد سے زخمی ہوا ہے۔

مشتعل کارکنان نے نجی ٹی وی کی ڈی ایس این جی پر بھی پتھراؤ کرکے شدید نقصان پہنچایا جبکہ ڈرائیور کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی کراچی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اب سے کچھ دیر بعد مزار قائد پہنچیں گے۔

یاد رہے کہ کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے سے پہلے مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک اور خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بند ہیں۔

اس کے علاوہ گرومندر سے نمائش سگنل تک جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے میڈیا پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے، وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کسی کو امن و امان کے حالات سبوتاژ کرنے نہیں دیں گے، شرپسند عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا جائے، جدید مانیٹرنگ نظام سے نشاندھی کرکے شرہسندوں کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس کڑی نگرانی اور مانیٹرنگ کو مذید سخت کرے۔

قبل ازیں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو دورۂ سندھ پر مکمل سیکیورٹی فراہم کی، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی ہے، آئینی عہدوں کا مکمل احترام کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت پہلے دن ہی دے دی گئی تھی، اس کے باوجود الزامات نامناسب ہیں، پی ٹی آئی کو گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے کسی نے نہیں روکا، سڑکوں پر ریلیوں اور جلوسوں سے ٹریفک شدید متاثر ہو رہا ہے، کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے، چند سو افراد سے بھی ٹریفک مسائل پیدا ہو جاتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنان قانون ہاتھ میں نہ لیں، گائیڈ لائنز پر عمل کریں، انھوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی الرٹ کے تحت پلان دیا گیا، افسوس کہ اس پر عمل نہیں ہو رہا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US