وہ ’خفیہ ہتھیار‘ جس کی مدد سے مچل سٹارک نے وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑ دیا

سٹارک کا سامنا کرنا اتنا مشکل کیوں ہے اور انھوں نے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد کون سے خفیہ ہتھیار پر محنت کی؟

35 سالہ آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل سٹارک نے حال ہی میں جس طرح کی تباہ کن بولنگ کی ہے وہ شاید ایک ایسے کریئر کا عروج تھا جس کی بنیاد صرف وکٹ حاصل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ خود کو بدلنے کی مہارت اور پائیداری بھی تھی۔

حالیہ کچھ عرصے میں انھوں نے ٹیسٹ کریئر میں مجموعی طور پر وکٹیں حاصل کرنے والے گیند بازوں کی فہرست میں وسیم اکرم سمیت شان پولاک، ہربھجن سنگھ اور کرٹلی امبروز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سٹارک ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب لیفٹ آرم فاسٹ بولر بھی بن چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ گذشتہ 56 ٹیسٹ میچوں کے دوران، جو آسٹریلیا نے کھیلے، سٹارک صرف چار میں نہیں کھیلے۔

اب وہ دن قصہ پارینہ بن چکے ہیں جب 20 سالہ سٹارک کو اس وقت کے آسٹریلوی کوچ ٹم نیلسن نے بہت بری زبان میں ’سخت جان‘ بننے کو کہا تھا۔

ٹم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت شاید میری بات اسے بری لگی ہو لیکن کوچ کا کام ہی کھلاڑیوں کو چیلنج کرنا ہوتا ہے اور انھیں ماضی سے بہتر بنانا ہوتا ہے، ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر۔‘

’ایسی گفتگو بہت سے فاسٹ بولز کے ساتھ ہوتی ہے خصوصا جب وہ نئے نئے انٹرنیشنل کرکٹ میں داخل ہوتے ہیں۔‘

سٹارک کا سامنا کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

آسٹریلیا کے کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے ابھی سے سٹارک کو 2027 کی ایشز سیریز میں شامل کرنے کی بات کی ہے۔ یاد رہے اس وقت تک سٹارک کی عمر 37 سال ہو چکی ہو گی۔

ایسے میں سٹارک کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ جیمز اینڈرسن، گلین مکگراتھ اور کورٹنی والش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 500 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پانچویں تیز بولر بن سکیں۔

لیکن اس کلب میں شامل ہونے کے لیے گیند باز کو خطرناک بھی ہونا چاہیے۔ انگلینڈ کے بلے باز ڈیوڈ ملان کا کہنا ہے کہ ’آپ یہ تو دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس گیند کو کھیلنا ایک اور معاملہ ہے۔‘

ایک وقت تھا جب سٹارک پر تنقید ہوتی تھی کہ وہ بہت زیادہ رن دیتے ہیں۔ لیکن ان کی وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت نے اس تنقید کو خاموش کرا دیا۔ تیز بولرز میں سے صرف ڈیل سٹین اور وقار یونس کا سٹرائیک ریٹ سٹارک سے زیادہ ہے۔ وہ شاید واقعی زیادہ رنز دیتے ہوں لیکن وہ جتنی گیندوں میں وکٹ حاصل کر لیتے ہیں وہ اوسط بہت کم ہے۔

ملان کا کہنا ہے کہ ’ہر دس گیندوں کے بعد وہ ایسی گیند کرا دیتا ہے کہ بلے باز پویلین واپس جا رہا ہوتا ہے۔‘

’وہ کٹ بال کراتا ہے اور پھر اچانک ایسی گیند کراتا ہے جو مڈل سٹمپ سے شروع ہوتی ہے لیکن آف سٹمپ کو لے اڑتی ہے۔ اس کے پاس وکٹ لینے والی گیند ہے اور اگر آپ اس کی ہر گیند کو عزت نہیں دیں گے تو وہ آپ کو آؤٹ کر لے گا۔‘

’خفیہ ہتھیار‘

سٹارک 99 میل فی گھنٹہ کی رفتار کو تو نہیں چھوتے لیکن ان کی اوسط رفتار 87 میل سے زیادہ ہی رہی ہے۔ اور ایسا محسوس نہیں ہو رہا کہ ان کی رفتار کم ہونے والی ہے۔

نیلسن کا کہنا ہے کہ ’وہ طویل قامت ہے اور ہوا میں اس کی گیند کی رفتار بہت اچھی ہے۔‘

گیند کو سوئنگ کروانا سٹارک کی مرکزی حکمت عملی رہی جیسا کہ ان سے قبل وسیم اکرم اور دیگر لیفٹ آرم تیز گیند بولرز نے کیا۔ لیکن پھر 2019 کی ایشز کے دوران ان کو ڈراپ کر دیا گیا۔

پھر سٹارک نے ایک نیا ہتھیار متعارف کروایا جب وہ 2023 میں انگلینڈ کے خلاف کھِیلے۔ 2023 کی اس سیریز کے بعد سے کسی بھی بولر نے سٹارک سے زیادہ وکٹیں حاصل نہیں کی ہیں۔ جسپریت بمرا بھی ان سے پیچھے ہیں۔

اس کامیابی کی وجہ ان کا خفیہ ہتھیار ’ووبل سیم‘ ہے۔ سابق آسٹریلوی گیند باز جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ ’سٹارک نے دکھایا کہ کیسے آپ نئی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔‘

جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ ’سٹارک نے براڈ اور جیمز اینڈرسن کو بہت غور سے دیکھا اور ان سے بات بھی کی۔ 34-35 سال کی عمر میں خود کو بہتر بنانا بہترین کام ہے۔‘

’ووبلر‘ نامی گیند نے سٹارک کو پراسرار بھی بنانے میں مدد دی ہے۔ جب وہ یہ گیند کراتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی گیند پچ پر پڑنے کے بعد غیر متوقع طور پر باؤنس ہو جاتی ہے لیکن کوئی گیند سیدھی جاتی ہوئی بلے کا باہری کنارہ لے لیتی ہے۔

گذشتہ تین سال میں سٹارک کی گیندوں پر سلپ میں پکڑے جانے والے کیچوں میں دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جیسن گلیسپی کہتے ہیں کہ ’ووبل سیم میں اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ آپ گیند کو اپنی درمیانی انگلی کی مدد سے ریلیز کرتے ہیں اور اگر آپ یہ کام درست طریقے سے کر لیتے ہیں تو پھر بلے باز کے ذہن میں شک پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔‘

گلیسپی کا کہنا ہے کہ ’سٹارک نے اس گیند پر بہت محنت کی اور اسی کی وجہ سے ان کی ان سوئنگ گیند بھی بلے باز کے لیے ایک سرپرائز بن جاتی ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US