پاکستان کی قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم سیریز ایک ایک ہونے کے بعد آج سری لنکا سے واپس وطن پہنچے گی۔
اتوار کو دمبولہ میں کھیلے گئے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو 14 رن سے شکست دے دی اور سیریز برابر کردی۔ دمبولا میں بارشوں کے سلسلے کی وجہ سے آخری میچ بھی خلل پڑا اور 20 سے 12 اوور کا میچ کردیا گیا جس میں سری لنکا نے کامیابی حاصل کرلی۔
پاکستان کی طرف سے کپتان سلمان علی آغا نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 12 گیندوں پر 45 رنز کیے مگر وہ پاکستان کو جیت دلوانے میں کافی نہیں تھے کیونکہ سری لنکا نے 161 رنز کا ہدف دیا تھا۔
قومی سلیکٹرز کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اسی ہفتے سلیکٹرز ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان کے ساتھ بیٹھ کر اگلے مہینے ہونے والے ورلڈ کپ اسکواڈ کو حتمی شکل دے دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز مشاورت کے بعد آسٹریلیا سے ہونے والی تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے لیے بھی اسکواڈ اناؤنس کردیں گے۔ لیکن کیونکہ آسٹریلیا سے پہلا میچ ہی 31 جنوری کو ہے جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ڈیڈ لائن ہے کے لیے ساری ورلڈ کپ کی ٹیموں کو اپنے حتمی اسکواڈ بھجوانے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہفتے ہونے والی میٹنگ میں ہی ورلڈ کپ اسکواڈ کو فائنل کردیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں تک ممکنہ کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو سری لنکا سیریز کے بعد صاحبزادہ فرحان، ایوب شاداب خان فخر زمان بابر اعظم مشرف محمد نواز عثمان خان اور ابرار احمد تو پکے ہیں مگر باقی پانچ کھلاڑیوں پر میٹنگ میں بحث ہونی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا فیصلہ مسٹری اسپنر عثمان طارق کی سلیکشن پر ہے جن کو سری لنکا میں کوئی میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ بھی بارش کی نذر ہوگیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ سلیکٹرز کو ٹیم مینجمنٹ کو عثمان طارق کی بولنگ ایکشن پر الجھن ہے کہ کہیں ورلڈ کپ میں ان کی بالنگ ایکشن پر سوالات نہ اٹھیں۔ عثمان طارق اس سے پہلے پی ایس ایل میں کھیلنے کے بعد اپنی بالنگ ایکشن کی وجہ سے معطل ہوگئے تھے۔
ذرائع کے مطابق سلیکٹرز کے لیے دوسرا بڑا فیصلہ شاہین شاہ آفریدی کی فٹنس کے حوالے سے ہے، جو اس وقت اپنی گھٹنے کی چوٹ سے بحالی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہین عثمان طارق نسیم شاہ حارث روف سلمان مرزا خواجہ نافع عبدالصمد کو لے کر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق سلیکٹر اگلے ہفتے ورلڈ کپ کے حتمی اسکواڈ کا اعلان کردیں گے۔