ایوان کسی بھی ادارے کو ان کیمرہ بریفنگ کے لیے طلب کرسکتا ہے، اسپیکر بابر سلیم

image

خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بحث کے دوران اسپیکر بابر سلیم سواتی نے انکشاف کیا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے کور کمانڈر کو باضابطہ خط لکھ دیا گیا ہے، جبکہ منتخب نمائندوں کو سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران اسمبلی میں امن و امان پر مسلسل بات چیت کے بعد سیکیورٹی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے چیف سیکریٹری اور پولیس حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کیے۔ بعدازاں گرینڈ جرگہ بھی بلایا گیا، جس میں 30 سے زائد سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور سفارشات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 25 برس سے جاری آپریشنز کے باوجود صوبے میں امن کیوں قائم نہیں ہوسکا اور بے گھر افراد تاحال اپنے علاقوں کو کیوں واپس نہیں جاسکے؟ انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں کور کمانڈر کو خط لکھا گیا ہے، کیونکہ آئین کے تحت صوبے کے تمام معاملات پر نظر رکھنا اسمبلی کی ذمہ داری ہے اور ایوان کسی بھی ادارے کو ان کیمرہ بریفنگ کے لیے طلب کرسکتا ہے۔

بابر سلیم سواتی نے واضح کیا کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور نہیں کہ فوج کے ذریعے ہر چیز کنٹرول کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر اگر مناسب سمجھیں تو اپنے ادارے سے رائے لے سکتے ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ منتخب نمائندوں کو بریفنگ دی جانی چاہیے کیونکہ اس صوبے کے بے گناہ شہری دہشتگردی میں شہید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بریفنگ کے بعد اسمبلی اپنی سفارشات صوبائی اور وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی اور اب تک تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے ہیں۔

قبل ازیں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن نثار باز نے امن و امان پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ امن و امان ہے، تاہم ریاستی ادارے اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ وہ امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی کے باعث صوبے کا سرمایہ سندھ اور اسلام آباد منتقل ہوچکا ہے جبکہ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جا رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ باجوڑ میں آج بھی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور سرمایہ داروں سے بھتے وصول کیے جا رہے ہیں۔

نثار باز نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی میں منظور ہونے والے گرینڈ جرگہ کے اعلامیے پر اب تک کتنا عملدرآمد ہوا ہے؟ آپریشنز کے باوجود امن کیوں قائم نہیں ہو رہا اور ملٹری کے اعلی حکام کب منتخب اراکین اسمبلی کو بریف کریں گے؟ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کشمکش کا خمیازہ پختون عوام بھگت رہے ہیں۔

اجلاس میں ایم پی اے مخدوم آفتاب نے سرائیکی زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑی پور اور ڈیرہ کے علاقوں میں بدامنی دن بدن بڑھ رہی ہے، جبکہ حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر غیر منتخب افراد کو فنڈز فراہم کر رہی ہے اور منتخب نمائندوں کو وسائل سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن ملک عدیل نے کہا کہ بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے گرینڈ جرگہ کو یکسر نظرانداز کر دیا ہے اور مرکزی حکومت کو اس صوبے کے عوام کی کوئی پروا نہیں جو دہشتگردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن عناصر کو دہشتگرد قرار دیا جانا چاہیے، انہیں ہی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز ٹانک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ملک میں حقیقی آزادی قائم ہوگی اور عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

بعدازاں اسپیکر نے اجلاس 19 جنوری بروز پیر تک ملتوی کردیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US