خیبر پختونخوا اسمبلی میں کوہستان کو تین اضلاع میں تقسیم کرنے کے فیصلے پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے گئے، جہاں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے 2014 میں کی گئی اس تقسیم کو ازسرِنو جانچنے کی تجویز دیتے ہوئے اسے ماضی کی ممکنہ انتظامی غلطی قرار دیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا ہے کہ 2014 میں کوہستان کو تین اضلاع میں تقسیم کرنے کے فیصلے پر ری اسسمنٹ کی ضرورت ہے، کیونکہ بعض اضلاع کو مکمل طور پر نوٹیفائی کیے بغیر ضلع کا درجہ دینا ایک سنگین انتظامی غلطی ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں نہ دفاتر ہیں اور نہ ہی بنیادی انفراسٹرکچر، وہاں اضلاع کا قیام سوالیہ نشان ہے۔
رکن اسمبلی سجاد اللہ کے مطابق لوئر کوہستان اور کولائی پالس میں ایگری کلچر کا کوئی باقاعدہ سیٹ اپ موجود نہیں، تاہم اس کے باوجود ان اضلاع کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور بھرتیوں سے متعلق سمریاں تک منظور نہیں کی جاتیں۔
وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق کم آبادی کی بنیاد پر اضلاع بنانے کے بعد مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، موجودہ عملہ تینوں اضلاع کے انتظامی امور سنبھال رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں صرف ایک ماہ کی سرکاری مشینری کی تنخواہیں 65 ارب روپے سے زائد بنتی ہیں۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے واضح کیا کہ ماضی میں ایسے اضلاع بنا دیے گئے جو مکمل طور پر نوٹیفائی نہیں تھے، نہ وہاں دفاتر قائم کیے گئے اور نہ ہی انفراسٹرکچر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنجیدگی سے سوچنے کا مقام ہے کہ آخر ایسے اضلاع کیوں بنائے گئے، اور اگر یہ فیصلہ غلطی تھا تو اس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
اسپیکر نے اس مقصد کے لیے وزرا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی۔