افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائی

گزشتہ سال ستمبر میں اخونزادہ نے انٹرنیٹ اور فون بند کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے افغانستان کا باقی دنیا سے رابطہ کٹ گیا۔ تین دن بعد انٹرنیٹ بحال ہو گیا بنا کسی وضاحت کے کہ ایسا کیوں ہوا تھا تاہم اندرونی زرائع کے مطابق پردے کے پیچھے جو کچھ ہوا وہ ہنگامہ خیز تھا۔ کابل گروپ نے اخونزادہ کے حکم کے خلاف انٹرنیٹ بحال کر دیا تھا۔
طالبان
AFP via Getty Images

یہ بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک آڈیو تھی جس نے ظاہر کیا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ کو کیا چیز پریشان کر رہی ہے۔ یہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرہ ہے۔ طالبان نے 2021 میں امریکی انخلا کے ساتھ ہی ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

لیک ہونے والی اس آڈیو میں افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کو سنا جا سکتا ہے جو حکومت کے اندر ایک دوسرے کے مخالفین کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ اس تقریر میں افغان طالبان کے سربراہ کہتے ہیں کہ اندرونی اختلافات ان کی حکومت گرا سکتے ہیں۔

وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’اس تقسیم کی وجہ سے امارات ختم ہو سکتی ہے۔‘

Composite image shows headshots of three members of the Taliban - on the left, Taliban Interior Minister Sirajuddin Haqqani, in the centre is Afghan leader Hibatullah Akhundzada and on the right is Acting Defence Minister of Afghanistan Mohammad Yaqoob Mujahid.
AFP / Universal Images Group via Getty

یہ تقریر جنوری 2025 میں قندھار کے ایک مدرسے میں طالبان اراکین کی موجودگی میں کی گئی تھی جس نے کئی ماہ سے افغان طالبان کے اعلی رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی افواہوں کو ایندھن فراہم کیا تھا۔

یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس کی طالبان قیادت نے ہمیشہ تردید کی ہے۔ بی بی سی کی جانب سے براہ راست پوچھے جانے والے ایک سوال پر بھی اس کی تردید کی گئی۔

لیکن ان افواہوں کی وجہ سے بی بی سی افغان سروس نے طالبان، جو انتہائی خفیہ گروہ ہے، کے بارے میں ایک سال تک تحقیق کی جس کے دوران موجودہ اور سابق اراکین سمیت مقامی ذرائع، ماہرین اور سابق سفارت کاروں سے 100 سے زیادہ انٹرویو کیے گئے۔

اس تحریر کی حساسیت کی وجہ سے بی بی سی نے ان تمام افراد کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی شناخت ظاہر نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن اب پہلی بار ہم افغان طالبان کی اعلیٰ سطح پر دو مخصوص گروہوں کو پہچان سکے ہیں جو افغانستان کے مستقبل پر متضاد سوچ رکھتے ہیں۔

ان میں سے ایک گروہ ہیبت اللہ اخونزادہ کا وفادار ہے جو قندھار سے ملک کو ایک ایسی سخت اسلامی امارات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو جدید دنیا سے کٹی ہوئی اور جہاں معاشرے کے ہر پہلو پر کنٹرول پانے میں مذہبی رہنما ان کے ساتھ وفادار ہوں۔

ایک دوسرا گروہ، جو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود طاقتور طالبان اراکین پر مشتمل ہے، ایک ایسا ملک چاہتا ہے جہاں اسلامی نظام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کر کے ملک کی معیشت کو ترقی دی جائے اور خواتین کو بھی تعلیم تک رسائی دی جائے۔ واضح رہے کہ افغنستان میں لڑکیوں کو پرائمری کی سطح کے بعد تعلیم حاصل نہیں کرنے دی جا رہی۔

ایک اندرونی ذرائع نے اسے ’قندھار ہاؤس بمقابل کابل گروپ‘ قرار دیا۔

لیکن اصل سوال ہمیشہ سے یہ تھا کہ کابل گروپ، جس میں کابینہ میں شامل طالبان وزیر، طاقتور شدت پسند اور ہزاروں اراکین کی حمایت رکھنے والے بااثر مذہبی رہنما شامل ہیں، کیا بامعنی طریقے سے ہیبت اللہ اخونزادہ کو چیلنج کر پائیں گے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ آمرانہ رویہ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

آخرکار طالبان کے مطابق ہیبت اللہ اخونزادہ گروہ کے حکمران ہیں جو ’صرف خدا کو جوابدہ ہیں اور انھیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔‘

پھر ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے ملک کے سب سے طاقتور افراد کے درمیان جاری رسہ کشی کو مرضی کے تنازع میں بدل دیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں اخونزادہ نے انٹرنیٹ اور فون بند کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے افغانستان کا باقی دنیا سے رابطہ کٹ گیا۔ تین دن بعد انٹرنیٹ بحال ہو گیا بنا کسی وضاحت کے کہ ایسا کیوں ہوا تھا تاہم اندرونی زرائع کے مطابق پردے کے پیچھے جو کچھ ہوا وہ ہنگامہ خیز تھا۔ کابل گروپ نے اخونزادہ کے حکم کے خلاف انٹرنیٹ بحال کر دیا تھا۔

افغان طالبان کے قیام سے ان پر تحقیق کرنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ’کسی دوسرے افغان گروہ کے مقابلے میں طالبان کی ہم آہنگی بہت اعلی ہے – ان میں گروہ بندی یا اندرونی مخالفت نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس تحریک کے ڈی این اے میں اعلی حکام اور امیر یعنی اخونزادہ کی اطاعت کا اصول موجود ہے۔‘ اسی لیے ان کے واضح حکم کے خلاف انٹرنیٹ کی بحالی غیر متوقع اور اہم تھی۔

طالبان ذرائع کے مطابق ’یہ بغاوت سے کم نہیں تھا۔‘

ہیبت اللہ اخونزادہ

A grainy image showing two men dressed in white with turbans. The man on the left has a large beard which is greying. The man on the right wears glasses, with a slightly shorter beard. In front of them are what appears to be two boys. File photo
BBC
اخونزادہ کی تصویر کھینچنا ممنوع ہے۔ ان کی صرف دو ہی تصاویر منظرعام پر آئی ہیں

ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی ایسے شروع نہیں ہوئی تھی۔ اندرونی ذرائع کے مطابق 2016 میں انھیں ان کی اتفاق رائے قائم کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے سربراہ چنا گیا تھا۔

اگرچہ ان کے پاس عسکری تجربہ نہیں تھا، انھیں سراج الدین حقانی کی شکل میں ایک نائب مل گیا تھا۔ اس وقت سراج الدین حقانی امریکہ کو مطلوب تھے اور ان کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر تھی۔

ایک دوسرے نائب یعقوب مجاہد تھے جو طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے ہیں۔ وہ نوجوان ہیں لیکن ان کا ملا عمر سے تعلق تحریک کو متحد رکھنے کی وجہ تھا۔

یہ نظام دوحہ میں امریکہ سے مذاکرات تک چلتا رہا اور 2020 میں ہونے والے معاہدے کے بعد اگست 2021 میں اچانک امریکی فوج کا انخلا ہوا اور طالبان اقتدار میں واپس آ گئے۔

باہر کی دنیا کے لیے افغان طالبان متحد ہیں لیکن اندرونی زرائع کا کہنا ہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے فوری بعد دونوں نائبین کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں وزیر بنا دیا گیا جبکہ خود ہیبت اللہ اخونزادہ طاقت کا واحد مرکز بن گئے۔

Women and children crouch in the sweltering heat at a Taliban-controlled checkpoint near Abbey Gate, an entrance to the Kabul airport on Aug. 25, 2021. They wait to make their way towards the British military-controlled entrance of the airport
Los Angeles Times via Getty Images
2020 میں ہونے والے معاہدے کے بعد اگست 2021 میں اچانک امریکی فوج کا انخلا ہوا اور طالبان اقتدار میں واپس آ گئے

امریکہ سے مذاکرات کرنے والے طالبان کے شریک بانی عبدالغنی برادر جیسی طاقتور اور بااثر شخصیت کو بھی نائب وزیر اعظم کا عہدہ دیا گیا جبکہ بہت سے لوگوں کو توقع تھی کہ وہ وزیر اعظم بنیں گے۔

لیکن اخونزادہ نے کابل کے بجائے قندھار میں رہنے کو ترجیح دی جو طالبان کی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور اپنے اردگرد وفادار سخت گیر نظریاتی افراد کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ چند وفاداروں کو ملک کی سکیورٹی فورسز کا کنٹرول سونپ دیا گیا اوردیگر کو ملک کی معیشت اور مذہبی پالیسیوں کا انتظام دے دیا گیا۔

ایک سابق افغان طالبان رکن، جو بعد میں امریکی پشت پناہی سے چلنے والی افغان حکومت میں شامل رہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ آغاز سے ہی اخونزادہ نے اپنا مضبوط گروہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق اگرچہ اخونزادہ کے پاس شروع میں موقع نہیں تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے مہارت سے اپنا حلقہ اثر وسیع کیا اور اپنے اختیار اور پوزیشن کو اس کام کے لیے استعمال کیا۔

Graphic shows the Taliban’s top leadership, beginning with the Supreme leader Hibatullah Akhundzada. Below him are the Kandahar loyalists: Chief justice Abdul Hakim Haqqani, Prime minister Mohammad Hassan Akhund and Higher education minister Neda Mohammad Nadim. Also below the Supreme leader are the Kabul group: Deputy prime minister Abdul Ghani Baradar, Interior minister Sirajuddin Haqqani and Defence minister Mohammad Yaqoob Mujahid.
BBC

کابل میں موجود وزرا سے مشاورت کے بغیر احکامات صادر ہونا شروع ہو گئے جن میں طاقت میں آنے سے پہلے کیے جانے والے وعدوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی جیسا کہ لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی دینا۔ دسمبر میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایک ذیلی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی دونوں گروہوں کے درمیان تناؤ کی ایک اہم وجہ ہے۔

ایک اور اندرونی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ 1990 کی دہائی میں طالبان کی شریعت عدالت میں بطور جج کام کرنے والے اخونزادہ اپنے مذہبی خیالات میں اور سخت گیر ہوتے چلے گئے۔ دو طالبان حکام کے مطابق اخونزادہ کے نظریات ایسے تھے کہ وہ 2017 میں اپنے بیٹے کے خودکش بمبار بننے کے فیصلے سے نا صرف واقف تھے بلکہ انھوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

بی بی سی کو بتایا گیا کہ اخونزادہ کو اس بات کا یقین ہے کہ غلط فیصلے کے اثرات ان کی زندگی کے بعد بھی رہیں گے۔ طالبان حکومت کے ایک موجودہ رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ہر فیصلہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں خدا کو جواب دہ ہوں، مجھ سے سوال ہو گا کہ میں نے کچھ کیوں نہیں کیا۔‘

اخونزادہ سے ہونے والی ملاقاتوں میں شرکت کرنے والے دو افراد نے بی بی سی کو ان کا احوال سنایا۔ ان کے مطابق اخونزادہ زبان سے کم اور اشاروں سے زیادہ بات کرتے ہیں جن کی وضاحت اور ترجمہ کمرے میں موجود عمر رسیدہ علما کرتے ہیں۔

عوامی مقامات پر عینی شاہدین کے مطابق وہ اپنا چہرہ چھپا کر رکھتے ہیں اور پگڑی پر لپٹے رومال سے آنکھیں چھپاتے ہیں اور اکثر سامعین سے خطاب کرتے ہوئے سیدھے نہیں کھڑے ہوتے۔ اخونزادہ کی تصویر کھینچنا ممنوع ہے۔ ان کی صرف دو ہی تصاویر منظرعام پر آئی ہیں۔

اخونزادہ سے ملاقات کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طالبان رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے اخونزادہ باقاعدگی سے مشاورت کرتے تھے لیکن اب زیادہ تر طالبان وزرا کو دنوں اور ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل میں موجود وزرا کو کہا گیا کہ وہ قندھار صرف اس صورت میں آئیں اگر انھیں باقاعدہ سرکاری دعوت نامہ وصول ہوا ہو۔

اسی دوران اخونزادہ اہم محکمے، بشمول اسلحے کی ترسیل کا محکمہ، جو پہلے سراج الدین حقانی اور مجاہد یعقوب کے زیر اثر تھے قندھار منتقل کروا رہے تھے۔ دسمبر کے خط میں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے نوٹ کیا کہ اخونزادہ طاقت کا محور بنتے ہوئے مسلسل سکیورٹی فورسز کو براہ راست قندھار کے کنٹرول میں لا رہے ہیں۔

خبروں سے عندیہ ملتا ہے کہ اخونزادہ اب کابل میں وزرا کو بائی پاس کرتے ہوئے نچلی سطح پر مقامی پولیس اہلکاروں تک کو خود حکم جاری کرتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اصل اختیار قندھار منتقل ہو چکا ہے تاہم طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام وزرا اپنے روزمرہ امور اور فیصلوں میں بااختیار ہیں اور انھیں اختیارات سونپ دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے فرائض ادا کر سکیں تاہم انھوں نے کہا کہ شریعت کے نقطہ نظر سے اخونزادہ کے پاس حتمی اختیار ہے تاکہ تقسیم سے بچا جا سکے اور ان کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں۔

وہ افراد ’جنھوں نے دنیا دیکھ رکھی ہے‘

کابل گروپ میں ناخوشی بڑھ رہی تھی اور اتحاد مضبوط ہو رہے تھے۔

ایک تجزیہ کار نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل گروپ میں وہ لوگ ہیں ’جنھوں نے دنیا دیکھ رکھی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ موجودہ طریقے سے چلنے والی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔‘

کابل گروہ ایک ایسا افغانستان دیکھنا چاہتا ہے جو مشرق وسطی کی ریاست کی طرز پر ہو۔

وہ قندھار میں طاقت اور اختیارات اکھٹا کرنے پر فکرمند ہیں، انھیں قوانین کے نفاذ پر، خواتین کی تعلیم اور ملازمت سمیت بیرونی دنیا سے رابطوں کے حوالے سے تشویش ہے۔

Map of Afghanistan showing where the Taliban leadership is based. In the city of Kandahar, an annotation says that Supreme leader Akhundzada has chosen to based himself in there, since it’s a base of power for the Taliban. In the city of Kabul, an annotation says that the so-called Kabul group are based in the country’s capital.
BBC
To request translations:Complete the translations here: https://tinyurl.com/5ce8vwhbFill-in the commissioning form https://bit.ly/ws_design_form with this title in English: Taliban - graphics set - 2026011303

لیکن افغان خواتین کے لیے زیادہ حقوق کے حق میں ہونے کے باوجود کابل گروپ کو معتدل نہیں کہا جا سکتا۔ اندرونی ذرائع کے مطابق یہ ’عملیت پسند‘ ہیں جن کے غیر سرکاری رہنما عبدالغنی برادر ہیں۔ انھیں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 میں صدارتی مہم کے دوران ’عبدل‘ کے نام سے پکارا تھا۔ عبدالغنی برادر ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی سربراہی کر رہے تھے۔

کابل گروپ کی بدلتی پوزیشن لوگوں کی نظروں میں آئی ہے۔ ایک تجزیہ کار نے کہا کہ ’ہمیں یاد ہے کہ یہ لوگ ٹی وی تباہ کرتے تھے اور اب خود ٹی وی پر نظر آتے ہیں۔‘

انھیں سوشل میڈیا کی طاقت کا بھی اندازہ ہو چکا ہے۔

سابق نائب یعقوب مجاہد، جن کے والد طالبان کی پہلی حکومت کے سربراہ تھے، نے موسیقی اور ٹی وی پر پابندی عائد تھی، نوجوان طالبان اراکین سمیت عام شہریوں میں بھی کافی مقبول ہیں جس کا ثبوت ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز اور ایسی اشیا کی فروخت ہے جن پر ان کی تصویر موجود ہے۔

تاہم شاید افغان طالبان میں سے کسی اور نے اپنی شبیہ تبدیل نہیں کی جیسی سراج الدین حقانی نے کی۔ افغانستان میں امریکی فوج کے خلاف سب سے زیادہ مہلک حملے کرنے والے نیٹ ورک کی سربراہی کرنے والے سراج الدین حقانی، جن میں 2017 میں جرمنی کے سفارت خانے کے قریب ہونے والا دھماکہ بھی شامل ہے جس میں 90 عام شہری ہلاک ہوئے تھے، اس دوران گرفتاری سے بچنے کی وجہ سے اپنے حامیوں میں ایک افسانوی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اس زمانے میں ان کی صرف ایک تصویر موجود تھی جو بی بی سی افغان سروس کے صحافی نے کھینچی تھی۔

Three images of Sirajuddin Haqqani in a row - one side profile photo, wearing a brown cloak. Two other pencil drawings showing a man with a beard and dark hair, as well as heavy eyebrows
FBI
ایف بی آئی نے سراج الدین حقانی کے سر پر لگائی جانے والی 10 ملین ڈالر کی انعامی رقم خاموشی سے ختم کر دی تھی

امریکی انخلا کے چھ ماہ بعد سراج حقانی کابل میں پولیس افسران کی تقریب میں پوری دنیا کے سامنے کیمروں کی نظر میں آئے اور ان کا چہرہ سب سے سامنے تھا۔

یہ ایک نئی شبیہ کی جانب پہلا قدم تھا جس میں وہ شدت پسند نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت تھے جس کے ساتھ 2024 میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے صحافی نے بیٹھ کر سوال کیا کہ کیا وہ افغانستان میں تبدیلی کی امید ہیں؟

صرف چند ماہ بعد امریکی ایف بی آئی نے خاموشی سے ان کے سر پر لگائی جانے والی دس ملین ڈالر کی انعامی رقم ختم کر دی تھی۔

تاہم تجزیہ کار اور اندرونی ذرائع نے متعدد بار بی بی سی کو بتایا کہ اخونزادہ کے خلاف کھل کر کوئی حرکت کرنا شاید ممکن نہیں۔

ان کے احکامات کی مخالفت محدود تھی جیسا کہ کابل گروپ کے زیراثر علاقوں میں داڑھی کی حجامت کی ممانعت کے حکم پر عمل نہ کرنا لیکن بغاوت کا بڑا قدم کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

ایک سابق افغان طالبان رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اخونزادہ کی اطاعت لازمی سمجھی جاتی ہے۔‘

خود سراج الدین حقانی نے نیو یارک ٹائمز سے گفتگو میں کسی کھلے اختلاف اور تقسیم کے امکانات کے بارے میں کہا تھا کہ ’موجودہ صورتحال میں افغانستان کے لیے اتحاد اہم ہے تاکہ ملک پرامن ہو سکے۔‘

تاہم ایک تجزیہ کار کے مطابق کابل گروپ نے بیرونی دنیا اور افغان شہریوں کو یہ پیغام دیا کہ ’ہم آپ کی شکایات سے واقف ہیں لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘

اور انٹرنیٹ بند کرنے کے حکم سے پہلے تک سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا۔

اہم موڑ

A Taliban security personnel uses a non-smartphone in Kandahar on June 17, 2025, The Talibans' Supreme leader Hibatullah Akhundzada had called officials and scholars on reducing their use of smartphones.
AFP via Getty Images

افغان طالبان کے سربراہ انٹرنیٹ کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس یقین میں اتنے پختہ ہیں کہ ان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں خبریں اور سوشل میڈیا کا مواد ہر صبح پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔

کابل گروپ کا ماننا ہے کہ کوئی جدید ملک انٹرنیٹ کے بغیر نہیں چل سکتا۔

اخونزادہ کی جانب سے انٹرنیٹ بند کرنے کے حکم کا نفاذ پہلے ان کے زیراثر علاقوں میں کیا گیا جس کے بعد اسے باقی ملک میں بھی بند کر دیا گیا۔ کابل گروپ کے قریبی ذرائع سمیت طالبان حکومت کے اندر موجود افراد نے بتایا کہ اس کے بعد جو ہوا وہ طالبان کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ تھا جس کی نظیر نہیں ملتی۔

ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ اس نے تحریک کے بہت سے اراکین کو حیران کر دیا۔ مختصر الفاظ میں کابل گروپ کے سب سے طاقتور وزرا اکھٹے ہوئے اور انھوں نے کابل میں موجود وزیر اعظم ملا حسن اخوند کو انٹرنیٹ کی بحالی پر آمادہ کیا۔

اس گروپ نے انٹرنیٹ کی بندش کے حکمنامے کے بارے میں اپنی ناخوشی کا اظہار اس کے جاری ہونے سے قبل ہی کر دیا تھا جب عبدالغنی برادر نے قندھار جا کر اخونزادہ کے ایک وفادار گورنر کو خبردار کیا تھا کہ انھیں ’جاگنے کی ضرورت‘ ہے اور یہ کہ ’ہر بات میں سپریم لیڈر کی ہاں میں ہاں نہ ملایا کریں۔‘

قندھار علما کونسل کے ایک رکن کے مطابق عبدالغنی برادر نے کہا تھا کہ ’آپ انھیں کھل کر سچ بات نہیں بتاتے، جو وہ کہتے ہیں آپ اس پر عمل کر دیتے ہیں۔‘

ذرائع کے مطابق عبدالغنی برادر کی بات کو اہمیت نہیں دی گئی۔ 29 ستمبر کو براہ راست طالبان سربراہ کی جانب سے ٹیلی کمیونیکیشن وزارت کو حکم ملا کہ سب کچھ بند کر دیں اور وزارت میں موجود ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بھی کہا گیا کہ کوئی بہانہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

بدھ کی صبح کابل گروپ کے وزرا، جن میں عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی اور یعقوب مجاہد شامل تھے، وزیراعظم کے دفتر میں اکھٹے ہوئے جہاں ٹیلی کمیونیکیشن وزارت کے وزیر بھی موجود تھے۔ انھوں نے قندھار کے حمایت یافتہ وزیر اعظم پر زور دیا کہ اس حکم کو بدل دیں۔ ذرائع کے مطابق وزرا نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ مکمل ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ یہ حکمت عملی کام کر گئی اور انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا۔

لیکن شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان چند دنوں میں ایسا ہی ہوا جیسا اخونزادہ نے چند ماہ قبل اپنی تقریر میں کہا تھا: طالبان کے اندر سے ہی اتحاد کو خطرہ درپیش تھا۔

An Afghan boy carries the Taliban flag as he skates across the Wazir Akbar Khan hilltop in Kabul on October 13, 2025.
AFP via Getty Images
سپریم لیڈر کے حکم کا بدلنے کے فیصلے پر کابل گروپ سمیت کئی لوگ حیران تھے

لیکن اسی حکم پر کیوں؟ ایک ماہر کے مطابق طالبان اراکین اخونزادہ کے لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق حکم سے اختلاف رکھنے کے باوجود ان کے احکامات کی پابندی کر رہے تھے جبکہ اخونزادہ کو کھلے عام چیلنج کرنے والے پہلے اس کی قیمت ادا کر چکے تھے۔

فروری 2025 میں اس وقت کے نائب وزیر خارجہ کو اس وقت ملک سے فرار ہونا پڑا تھا جب انھوں نے عوامی اجتماع میں کہا تھا کہ ’قیادت خدا کے راستے سے بھٹک رہی ہے کیونکہ دو کروڑ لوگوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔‘ ان کا اشارہ خواتین کی تعلیم پر پابندی کی جانب تھا۔

اقوام متحدہ مانیٹرنگ ٹیم دو دیگر افراد کی جانب اشارہ کرتی ہے جنھیں اخونزادہ کے اسی حکم پر سوال اٹھانے کی وجہ سے گزشتہ سال جولائی اور ستمبر میں حراست میں لیا گیا۔

اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ اخونزادہ اور ان کے حامیوں نے سراج حقانی جیسی شخصیات کو قریب رکھنے کی کوشش کی اگرچہ حقانی کی جانب سے طاقت کو ایک جگہ اکھٹا کرنے کے بارے میں عوامی سطح پر تنقید کی گئی۔

اس کے باوجود بیان سے عملی قدم کی جانب سفر شاید ایک نیا قدم ہی تھا۔ ایک ماہر کے مطابق شاید اس بار یہ خطرہ مول لینا ان کے لیے اہم تھا۔

ان کا ماننا ہے کہ ’یہ پوزیشن طاقت اور پیسہ بنانے کی صلاحیت سے جڑی ہے‘ لیکن دونوں کا دارومدار انٹرنیٹ پر ہے جو حکومت اور تجارت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش نے اسے خطرے میں ڈالا جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بندش سے ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ شاید اسی لیے اس ایک موقع پر وہ بہادر بنے۔

لیکن جب انٹرنیٹ بحال کیا گیا تو یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اب آگے کیا ہو گا؟ کابل گروپ کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ وزرا کو بتدریج ہٹایا جائے گا یا ان کی تنزلی کی جائے گی۔

لیکن قندھار گروپ علما کونسل کے ایک رُکن نے بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ سپریم لیڈر اس معاملے میں پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ اُنھیں بڑے پیمانے پر مخالفت کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

سال کے ختم ہونے پر یہ عوامی سطح پر واضح ہو چکا تھا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے بعض رُکن ممالک کی طرف سے لکھے گئے خط میں ’کابل اور قندھار گروپ کے رہنماوں میں تقسیم کو محض ایک خاندان میں ہونے والا اختلاف قرار دیا گیا۔‘

ان ممالک کے مطابق اس سے صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی رُونما ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ طالبان کی سینیئر قیادت اس ایک نکتے پر متفق ہے کہ اندورنی اختلافات کو طالبان کی کامیابی کی راہ میں حال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دوٹوک انداز میں کسی بھی مبینہ تقسیم کو رد کیا۔

رواں ماہ کے آغاز پر بی بی سی سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم آپسی تقسیم کی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتے، تمام وزرا اور سینیئر قیادت یہ جانتی ہے کہ تقسیم افغانستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ہمارا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا اور اللہ بھی اس سےگریز کا حکم دیتا ہے۔‘

لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کسی بھی معاملے پر اختلاف رکھنا ایک ’رائے‘ ہے، یہ طالبان کے اندر ہے اور یہ اسی طرح ہے ’جیسے کسی خاندان میں کسی بات پر اختلاف‘ ہو جاتا ہے۔

دسمبر کے وسط میں اس نوعیت کے اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔ سراج الدین حقانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ اپنے آبائی صوبے خوست میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’جو بھی عوام کے اعتماد، پیار اور یقین کے ساتھطاقت میں آتا ہے اور پھر اسی قوم کو بھول جاتا ہے تو پھر یہ حکومت نہیں۔‘

اُسی روز اخونزادہ کے وفادار سمجَھے جانے والے ہائی اِیجوکیشن کے وزیر ندا محمد ندیم نے ساتھ والے صوبے میں مدرسے کے طلبہ کی گریجویٹ تقریب سے خطاب کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ صرف ایک شخص حکم دیتا ہے اور باقی سب اس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ حقیقی اسلامی حکومت ہے۔

ندا محمد ندیم کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں بہت سے رہنما ہوں گے تو وہاں مسائل ہوں گے اور اس حکومت نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اُن پر پانی پھر جائے گا۔‘

انٹرنیٹ کے معاملے پر تنازعکے بعد ندا محمد ندیم کے ان ریمارکس کا پس منظر بالکل مختلف تھا حالانکہ گذشتہ برس کے آغاز پر اخونزادہ کی لیک ہونے والی آڈیو کے وقت حالات کچھ اور تھے۔

اس کے باوجو کیا 2026 وہ سال ہو گا جب کابل گروپ افغانستان کی خواتین اور مردوں کے لیے بامعنی تبدیلی لانے کے لیے پیش قدمی کرے گا، یہ بحث ابھی باقی ہے۔

ایک ماہر کہتے ہیں کہ طالبان حکومت کی قیادت میں اختلافات کے باوجود یہ سوال باقی ہے کہ کیا ان کے الفاظ کبھی عمل میں تبدیل ہو پائیں گے کیونکہ اُنھوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US