’میں 13 برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی‘

پیٹریشیا کی شادی کے 45 سال بعد بھی ریاست الاباما کے قوانین میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ آج 14 سال کا بچہ شادی نہیں کر سکتا لیکن 16 سال کے نوجوان کی اپنے والدین میں سے کسی ایک کی رضامندی سے شادی ہو سکتی ہے۔

14 سالہ پیٹریشیا لین سے 27 سالہ ٹموتھی کی شادی کی تقریب صرف چار منٹ تک جاری رہی۔

پیٹریشیا نے سفید لباس پہنا نہ اپنے بالوں کو پھولوں سے سجایا۔ شادی کی یہ تقریب امریکی ریاست الاباما میں ایک جج کے دفتر میں ہوئی، جس میں واحد گواہ پیٹریشیا کی والدہ تھیں۔

ریاست مینیسوٹا کے شہر سینٹ پال سے بی بی سی منڈو سے بات چیت میں 58 سالہ لین یاد کرتی ہیں کہ ’یہ سب بہت جلدی میں ہوا۔ مجھے وہ آدمی پسند نہیں تھا اور میری ماں غصے میں تھی۔ یہ خوفناک تھا۔‘

شادی کا سرٹیفیکیٹ موصول ہونے کے چند منٹ کے بعد جو پہلا کام پیٹریشیا نے کیا وہ عدالت کے سامنے پارک میں موجود ایک جھولے پر بیٹھ گئیں۔ یہ بچوں والی ایک ایسی حرکت تھی، جس نے ان کی ماں اور شوہر کو غصہ دلایا۔

پیٹریشیا یاد کرتی ہیں کہ ’کچھ بھی ایسا نہیں تھا جیسا میں نے اپنی شادی کے بارے میں سوچا تھا۔‘ وہ اس وقت اپنی پہلی بیٹی کے ساتھ حمل کے ابتدائی ہفتوں میں تھیں، جسے وہ بعد میں گود دینے والی تھیں۔

21 مئی 1980 کو پیٹریشیا کی شادی کے بعد سے ریاست الاباما کے قوانین میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ آج 14 سال کے بچے کی شادی نہیں ہو سکتی لیکن 16 سال کے نوجوان کی اپنے والدین میں سے کسی ایک کی رضامندی سے شادی ہو سکتی ہے۔

ایکوالٹی ناؤ (Equality Now) نامی تنظیم میں شمالی امریکہ کے پروگراموں کی سربراہ اینستیسیا لا کہتی ہیں کہ اب بھی ’کوئی اضافی تحفظات نہیں۔ ریاست کو نابالغ کی آزادانہ رضامندی کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اسے عدالتی اجازت کی ضرورت ہے۔‘

الاباما ان 34 امریکی ریاستوں میں شامل ہے جہاں 18 سال سے کم عمر افراد قانونی استثنیٰ کے ذریعے شادی کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق کم عمری میں شادی کی تعریف رسمی اور غیر رسمی یونین کے طور پر کی جاتی ہے جس میں 18 سال سے کم عمر کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ اس عمل کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم (Unchained at Last) کے مطابق سنہ 2000 اور 2021 کے درمیان امریکہ میں کم از کم 314,000 نابالغوں کی قانونی طور پر شادی کی گئی۔

ان میں سے کچھ لڑکیوں کی شادی اس وقت ہوئی جب وہ صرف 10 سال کی تھیں جبکہ زیادہ تر کی عمریں 16 یا 17 سال ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں نے بالغ مردوں سے شادی کی۔

یہ شادیاں ممکن ہیں کیونکہ امریکہ میں وفاقی سطح پر شادی کی کم از کم عمر مقرر نہیں، اس لیے ہر ریاست اپنے قوانین کی بنیاد پر کم از کم عمر مقرر کرتی ہے۔

اینستیسیا لا کہتی ہیں کہ ’وفاقی سطح پر قانون نہ ہونے سے ملک میں کم عمری کی شادیوں پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں بچوں کے حقوق کی وکالت کرنے کے لیے ہر ریاست کے مختلف قوانین کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا اصرار ہے کہ کم عمری میں شادیوں کو ختم کرنے کے لیے وفاقی سطح پر کم از کم عمر کا نفاذ پہلا اقدام ہے تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ امریکہ میں کم عمری کی شادی کو یقینی طور پر ختم کرنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔

’بغیر کسی استثنی کے کم از کم 18 سال کی عمر مقرر کرنے والے قوانین کے بغیر بچوں کا تحفظ ممکن نہیں۔ قانونی طور پر کم عمری میں شادی کی اجازت دینا اس عمل کی سماجی منظوری کے برابر ہے۔‘

’خاندانی کے لیے بے عزتی‘

پیٹریشیا مینیسوٹا کے مضافات میں سبز پہاڑیوں کے درمیان ایک چھوٹے سے شہر ایڈن پریری میں بڑی ہوئیں۔

پیٹریشیا اس وقت کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’میں اور میرا بھائی ثقافتی طور پر بہت اکیلے تھے۔ اگرچہ ہم ایک بڑے امریکی شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتے تھے لیکن ہماری زندگی بہت سخت تھی۔‘

بہت چھوٹی عمر سے ہی جنسی استحصال کا شکار ہونے والی پیٹریشیا شدید ڈپریشن میں چلی گئیں۔

اپنے گھر سے مدد نہ ملنے پر پیٹریشیا مجبور ہو گئیں کہ وہ ایسے کیسز میں مدد کے لیے بنائی گئی ایک ہاٹ لائن پر رابطہ کریں۔

اور اس طرح ان کی ملاقات ٹموتھی گرنی سے ہوئی، جنھوں نے اس دن پیٹریشیا کی کال کا جواب دیا اور چند ماہ بعد ان کے شوہر بن گئے۔

اس وقت ٹم کی عمر 25 سال تھی اور وہ مشنری بننے کے لیے ایک چھوٹی سی تنظیم میں انٹرن شپ کر رہے تھے اور مشکلات کے شکار افراد کے لیے بنائی گئی ہاٹ لائن پر کالز کا جواب دیتے تھے۔

پہلی کال کے بعد ہی یہ دونوں ملنے پر راضی ہو گئے اور کچھ ہی عرصے بعد پیٹریشیا 13 سال کی عمر میں حاملہ ہو گئیں۔

’میں حاملہ تھی لیکن میں اس شخص کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘

پیٹریشیا نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا تو ان کی والدہ نے ان پر ’خاندان کی بے عزتی‘ کا الزام عائد کیا۔

’میری والدہ نے کہا کہ اپنے خاندان کے لیے اس تمام شرمندگی کی ذمہ دار میں ہوں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ اب میں اس شخص سے شادی کر لوں۔‘

پیٹریشیا بچے کو پیدا کرنا چاہتی تھیں اور اس کے لیے انھیں شادی کرنا پڑی۔

اس طرح پیٹریشیا کے والد نے رضامندی کے فارم پر دستخط کیے اور اگلے دن وہ، ان کی ماں اور ٹم نے ایک عدالت کی تلاش میں جنوب کی طرف سفر کا آغاز کیا جہاں وہ شادی کر سکیں کیونکہ یہ مینیسوٹا میں ممنوع تھا۔

’میں اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میں شدت سے اس بچے کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ میں ایک اچھی ماں بن سکتی ہوں۔‘

مینیسوٹا سے الاباما تک

اس طرح پیٹریشیا، ان کی ماں اور ٹم سب سے پہلے کینٹکی پہنچے، جو مینیسوٹا کے قریب ترین ریاست ہے لیکن مقامی حکام نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

پیٹریشیا یاد کرتی ہیں کہ ’انھوں نے کہا بالکل نہیں، یہ بہت چھوٹی ہیں اور وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، بالکل ٹھیک کیونکہ میں واقعی بہت چھوٹی تھی۔‘

اس کے بعد وہ الاباما چلے گئے، جہاں اس وقت پیٹریشیا شادی کر سکتی تھی بشرطیکہ انھیں اپنے والدین کی اجازت حاصل ہو اور اس طرح جنوبی لاڈرڈیل کاؤنٹی پہنچنے پر پیٹریشیا اور ٹم کی شادی صرف چند منٹ میں ہو گئی۔

’میں نے شادی کے سرٹیفیکیٹ پر دستخط نہیں کیے تھے۔ اس پر میرا نام ہے لیکن میں اس پر دستخط کرنے کی پابند نہیں تھی۔ میری ماں نے میرے لیے دستخط کیے تھے۔ انھوں نے میری زندگی ایک آدمی کو دے دی۔ اس طرح یہ شادیاں کام کرتی ہیں۔ لوگ آپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور آپ اس وقت تک اس شادی سے نہیں نکل سکتے جب تک آپ 18 سال کے نہ ہو جائیں۔‘

حال ہی میں قوانین تبدیل ہوئے ہیں تاہم سنہ 2025 میں بھی واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ صرف 16 امریکی ریاستوں میں بغیر کسی استثنی کے شادی کی کم از کم عمر 18 سال ہے۔

اپنی شادی کے بعد کے برسوں میں پیٹریشیا کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا جیسے کہ اپنی بیٹی کو گود دینا اور اپنے شوہر سے طلاق لینا لیکن انھوں نے بعد میں دوبارہ شادی کر لی لیکن اس بار اپنی مرضی سے۔

اینستیسیا لا کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ اجازت دینے والی ریاستیں، جہاں والدین یا عدالتی رضامندی سے شادی کی کوئی کم از کم عمر نہیں، میں کیلیفورنیا، مسیسیپی، نیو میکسیکو اور اوکلاہوما ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمر کا نابالغ کسی بھی عمر کے شخص سے شادی کر سکتا ہے۔‘

’وفاقی سطح پر قانون ان خامیوں کو ختم کر سکتا ہے جو فی الحال شادی کی آڑ میں جبری شادیوں اور بچوں کی سمگلنگ کی اجازت دیتے اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘

کم عمری میں شادی
Getty Images
(فائل فوٹو) جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کے مطابق سنہ 2000 اور 2021 کے درمیان امریکہ میں کم از کم 314,000 نابالغوں کی قانونی طور پر شادی کی گئی

’میں اب بھی جدوجہد کر رہی ہوں‘

پیٹریشیا پر 14 سال کی عمر میں شادی مسلط کر دی گئی، جس سے تعلیم اور سماجی روابط جیسے ان کی زندگی کے کئی پہلو متاثر ہوئے۔

امریکہ میں جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق متاثرہ لڑکیاں اکثر الگ تھلگ ہو جاتی ہیں اور ان کے سکول چھوڑنے کے زیادہ امکان ہوتے ہیں اور وہ اپنے شوہروں پر اور بھی زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

’میرے شوہر مجھے دوست رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ میں مکمل طور پر اکیلی تھی۔ میں آج بھی جدوجہد کر رہی ہوں۔ میں تنہا محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے اب بھی لوگوں پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔‘

’آخر کار میں ان انتہائی منفی خیالات سے چھٹکارا پانے میں کامیاب تو ہو گئی لیکن آج بھی تقریباً 60 سال کی عمر میں، مجھے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔‘

سنہ 2018 سے 16 امریکی ریاستوں نے بچوں کی شادی پر پابندی کے لیے اپنے قوانین میں ترمیم کی لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

پیٹریشیا کہتی ہیں کہ میرے خیال میں بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا اب بھی ہوتا ہے۔ ’وہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتا ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔‘

پیٹریشیا کہتی ہیں کہ ’ان مردوں، یا یوں کہیے کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کے لیے شادی الزامات سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔ میں قانون بنانے والوں سے کہتی ہوں کہ وہ اس کی اجازت نہ دیں۔‘

’اور ان لوگوں کے لیے جو 16 یا 17 سال کی عمر میں یہ بحث کرتے ہیں کہ یہ سچا پیار ہے تو بہت اچھا! اگر ایسا ہے تو یہ تب بھی سچا پیار ہو گا جب وہ 18 سال کے ہوں گے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US