پاکستان کسٹمز نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 3 ارب 92 کروڑ روپے مالیت کی ممنوعہ، زائدالمیعاد اور مضرِ صحت اشیاء تلف کردیں۔
کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) کراچی نے کلکٹریٹ آف کسٹمز (ایئرپورٹس) کراچی کے تعاون سے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت مشترکہ تقریب کا انعقاد کیا، جس کا مقصد عوامی صحت کے تحفظ اور سرکاری محصولات کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
ترجمان کے مطابق تلف کی جانے والی اشیاء تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ضبط کی گئی تھیں، جبکہ ان کی تلفی CGO 12/2002 اور دیگر متعلقہ قوانین کے مطابق عمل میں لائی گئی۔ یہ کارروائی پلاٹ نمبر 243، نارتھر گڈاپ ٹاؤن کراچی میں سخت نگرانی اور شفاف انتظامات کے تحت کی گئی تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جاسکے۔
تقریب میں کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی، کلکٹر کسٹمز (ایئرپورٹس) کراچی کے علاوہ سندھ رینجرز، ایف آئی اے اور سندھ پولیس کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
تلف کی جانے والی اشیاء میں چھالیہ، گٹکا، شراب، اجینو موٹو نمک، سگریٹ، تمباکو مصنوعات، جانوروں کی ویکسین، ہیروئن، چرس اور دیگر مضرِ صحت اشیاء شامل تھیں، جنہیں امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں اسمگلنگ کے سدباب اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایف بی آر کے پختہ عزم کی عکاس ہیں، جبکہ مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔