امریکہ نے پاکستان اور ایران سمیت 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ غیر معینہ مدت تک روک دی ہے۔ کیا اس امریکی فیصلے کا تعلق پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات سے ہے یا اس کی وجہ کچھ اور ہے؟
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے امن کا نوبیل ایوارڈ دینے کی بھی سفارش کی تھیامریکہ نے پاکستان اور ایران سمیت 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ غیر معینہ مدت تک روک دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ حکم 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گا اور امریکہ میں قانونی داخلے کے راستوں کو مزید محدود کر دے گا۔
ویزا پابندیوں کے حوالے سے حالیہ دنوں میں یہ امریکہ کا سب سے سخت اقدام ہے۔
ایسے میں بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ یہ پابندیاں کیوں لگائی گئیں اور کون کون سے ملک ان کی زد میں آئیں گے؟
ان سوالوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس رائے کا اظہار کرتے نظر آئے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہترین تعلقات اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بارہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کے باوجود پاکستان کا نام اس فہرست میں کیوں شامل ہے؟
تو کیا اس امریکی فیصلے کا تعلق پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات سے ہے یا اس کہ وجہ کچھ اور ہے؟
امریکی پابندی کی وجہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ اس پابندی کا اطلاق تعلیم یا تفریح کے لیے دیگر قسم کی ویزا کی درخواستوں پر نہیں ہو گا۔
امریکہ کے اس فیصلے کا تعلق ان ممالک سے امیگیرشن کے خواہش مندوں پر ہو گا لیکن اس کی وجہ حقیقت میں ان ممالک سے تعلق رکھنے والے وہ افراد ہیں جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں اور حکومتی امداد حاصل کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ حکومت اس نظام کا ’غلط استعمال‘ ختم کرنا چاہتی ہے۔
اس کے علاوہ، فہرست میں شامل ابتدائی 19 ممالک کے تارکین وطن کے لیے پناہ حاصل کرنے، شہریت لینے اور گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مرکزی نائب ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا: ’محکمہ خارجہ اپنے اختیارات استعمال کرے گا تاکہ ایسے ممکنہ تارکین وطن کو نا اہل قرار دیا جا سکے جو امریکہ پر بوجھ بن سکتے ہیں اور امریکی عوام کی سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
پیگوٹ نے کہا کہ ویزا کا عمل عارضی طور پر اس لیے معطل کیا گیا تاکہ اس کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے اور ان غیر ملکیوں کو روکا جا سکے جو فلاحی اور عوامی فوائد کی سکیموں پر انحصار کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولن لیوٹ نے فاکس نیوز کی خبر شیئر کرتے ہوئے یہ اطلاع دی۔ انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ نے صومالیہ، روس اور ایران سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ پر پابندی لگا دی ہے۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستیں روک دیں۔ تاہم اس نئی پابندی کا اطلاق نان امیگریشن، عارضی سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر نہیں ہو گا۔
حالیہ مہینوں میں، محکمہ خارجہ نے ان ممالک سے امیگریشن پر پابندیاں بڑھا دی ہیں جنھیں ٹرمپ انتظامیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
ان میں روس، ایران، افغانستان اور افریقہ کے کئی ملک شامل ہیں۔
نومبر میں جب ایک افغان تارک وطن پر واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو گولی مارنے کا الزام عائد کیا گیا تب ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے شہریوں کا داخلہ بند کر دیا تھا یا سخت پابندیاں لگا دی تھیں۔
دسمبر میں یہ سفری پابندی مزید پانچ ممالک تک بڑھا دی گئی، ان پر بھی جو فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات پر سفر کرتے ہیں۔
امریکہ کن شہریوں کو بوجھ سمجھتا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 جنوری 2026 کو سماجی رابطوں کے لیے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک فہرست شائع کی تھی۔ اس فہرست میں دکھایا گیا تھا کہ کس کس ملک سے نقل مکانی کر کے امریکہ منتقل ہونے والے کس شرح سے حکومتی امداد لیتے ہیں۔
120 ممالک کی اس فہرست کے مطابق سب سے زیادہ امداد بھوٹان سے امریکہ جانے والے شہری لیتے ہیں، جو 81.4 فیصد ہے۔ 75.2 فیصد کے ساتھ یمن کے شہری دوسرے اور 71.9 فیصد کے ساتھ صومالیہ کے شہری تیسرے نمبر پر ہیں۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے 68.1 امریکی شہری حکومتی امداد لیتے ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستانی امیگرنٹس کی امداد لینے کی شرح 40.2 فیصد ہے، جب کہ 32.9 فیصد چینی نژاد امریکی شہری حکومتی امداد لیتے ہیں۔
انڈیا کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
حال ہی میں پاکستان امریکہ تعلقات میں گرم جوشی دیکھی گئی’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر پابندی کیوں لگائی؟‘
پاکستان جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو اس فہرست میں شامل ہیں۔
حالیہ دور میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہوتے دکھائی دیتے تھے۔ پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی بھی سفارش کی تھی۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ جا کر صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
اسی دوران ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا تھا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات بھی کی تھی۔
پاکستانی سیاست دان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایکس پر لکھا: ’ہم تو سمجھتے تھے امریکہ سے ہمارے اچھے ہیں اور انڈیا کے خراب ہیں، لیکن انڈین شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ جاری رہے گی اور پاکستانیوں کے لیے ایسی کوئی سہولت نہیں۔‘
تاہم، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسین ندیم کا خیال ہے کہ پاکستان اس فہرست میں زیادہ دیر نہیں رہے گا۔
حسین ندیم نے ایکس پر لکھا: ’پاکستان اس فہرست میں زیادہ دیر نہیں رہے گا؛ امکان ہے کہ جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو شروع سے ہی ویزا فریز لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔‘
امریکہ نے جن 75 ممالک کے بارے میں پابندی کا فیصلہ کیا، ان میں سے کئی پر حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہےجنوبی ایشیا میں جغرافیائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اس فہرست میں پاکستان کے نام کے بارے میں لکھا: ’پاکستان ان 75 ممالک میں شامل ہے جن پر ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طور پر ویزا کا عمل غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔ امریکہ سے تعلقات میں حالیہ گرم جوشی بھی پاکستان کو اس فیصلے سے نہ بچا سکی۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال بھی شامل ہیں۔‘
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے انٹریو میں سابق امریکی مشیر سلامتی جان بولٹن نے امریکہ کے نکتہ نظر سے اس کا مختلف تجزیہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’طالبان اور افغانستان میں دیگر گروہوں کے خلاف ہمارے پاکستان کے ساتھ بھی کچھ مشترکہ مفادات ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم پاکستان کے ساتھ کام کریں اور یہ احساس دلائیں کہ چین پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ انڈیا کے لیے۔ تب آگے بڑھنے کے لیے یہ بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ٹرمپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں یا نہیں، لیکن میں ان کا مشیر ہوتا تو یہی کہتا۔‘
کویت اور تھائی لینڈ کے نام پر بھی حیرانی ظاہر کی جا رہی ہےکچھ ناموں پر حیرانی کا اظہار
امیگرنٹ ویزا کی پابندیوں والی اس فہرست میں شامل کچھ ممالک پر تو حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی خلیج میں بیوروچیف ویویان نیرم ایکس پر لکھتی ہیں: ’مجھے یہ جاننے کا تجسس ہے کہ کویت، جو تیل سے مالا مال ملک ہے، جہاں کے شہریوں کی اوسط آمدن 60 ہزار ڈالر سے زیادہ ہے، وہ اس فہرست میں کیسے شامل ہو گیا۔‘
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے کالم نگار سدانند دھومے نے ایکس پر لکھا: ’مجھے حیرت ہوئی کہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری عارضی پابندیوں کی فہرست میں کویت، تھائی لینڈ، برازیل، اور یوراگوئے بھی شامل ہیں۔ ان ممالک کو تو نسبتاً خوشحال سمجھا جاتا ہے۔‘
امیگریشن ویزا پراسیسنگ پر پابندی کن ممالک پر لگی؟
- افغانستان
- البانیا
- الجيريا
- انٹیگوا اور باربوڈا
- آرمینيا
- آذربائیجان
- بہاماس
- بنگلہ دیش
- بارباڈوس
- بيلاروس
- بيلیز
- بھوٹان
- بوسنیا
- برازيل
- میانمار (برما)
- کمبوڈیا
- کیمرون
- کیپ وردے
- کولمبيا
- کوٹ ڈی ووآر
- کیوبا
- جمہوریہ ریپبلک کانگو
- ڈومینیکا
- مصر
- اریٹیریا
- ایتھوپیا
- فیجی
- گیمبیا
- جارجیا
- گھانا
- گریناڈا
- گوئٹے مالا
- گنی
- ہیٹی
- ايران
- عراق
- جمیکا
- اردن
- قزاکستان
- کوسووو
- کويت
- قرغزستان
- لاؤس
- لبنان
- لائیبیریا
- ليبيا
- مقدونیہ
- مالدووا
- منگوليا
- مونٹی نیگرو
- مراکس
- نيپال
- نکاراگوا
- نائیجیریا
- پاکستان
- روس
- روانڈا
- سینٹ کٹس اینڈ نیوس
- سینٹ لوسیا
- سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز
- سینیگال
- سیارا لیون
- صومالیہ
- جنوبی سوڈان
- سوڈان
- شام
- تنزانیہ
- تھائی لینڈ
- ٹوگو
- تیونس
- یوگانڈا
- يوروگوئے
- ازبکستان
- يمن