پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں کل سے 23 جنوری کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کردی۔
موسمی صورتحال کے پیشِ نظر پراونشل ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی جانب سے تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کے لیے الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
16 سے 19جنوری کے دوران چترال اپر و لوئر، دیر اپر و لوئر، سوات، شانگلہ، کوہستان اپر و لوئر، کولائی پالس، مالاکنڈ، بونیر، مانسہرہ، بٹگرام، طورغر، ایبٹ آباد، گلیات، اور ہری پور میں وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 سے 23 جنوری کے دوران صوبہ کے بالائی اضلاع چترال (اپر و لوئر)، دیر (اپر و لوئر)، سوات، شانگلہ، کوہستان اپر و لوئر، کولائی پالس، مالاکنڈ، بونیر، مانسہرہ، بٹگرام، طورغر، ایبٹ آباد، گلیات میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
20 سے 23 جنوری کے دوران صوبہ کے میدانی علاقوں صوابی، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، خیبر، اورکزئی، کرک، بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک اور ڈی آئی خان میں بھی وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بارشوں کے بعد میدانی علاقوں میں دھند چھائے رہنے اور دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق برفباری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، مالاکنڈ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ اور گلیات میں سڑکیں بند یا پھسلن کا شکار ہوسکتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا بھی خطرہ ظاہر کیا گیا۔
متعلقہ اداروں کو نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور بل بورڈز کو محفوظ بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی۔ دریا، ندی نالوں اور برساتی نالوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت کردی گئی ہے۔
سیاحوں اور مسافروں کو دورانِ برفباری کافی مقدار میں پانی، خوراک، ادویہ اور گرم کپڑے ساتھ رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ عوام تیز ہوا یا گرج چمک کے دوران بجلی کے کھمبوں، اشتہاری بورڈز اور کمزور ڈھانچوں سے دور رہیں۔