پنجاب میں مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز ہونے کے باوجود فی کس آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوسکا، جس کے باعث صوبہ اس اہم اشاریے میں خیبر پختونخوا سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی اوسط جی ڈی پی گروتھ 3.0 فیصد ریکارڈ کی گئی، تاہم فی کس آمدن کی گروتھ صرف 0.8 فیصد رہی، جو بڑھتی آبادی اور محدود آمدنی کی عکاس ہے۔
اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا نے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 4.6 فیصد اوسط جی ڈی پی گروتھ حاصل کی جبکہ فی کس آمدن میں 1.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بلوچستان میں جی ڈی پی گروتھ 2.9 فیصد رہی مگر فی کس آمدن کی گروتھ محض 0.3 فیصد تک محدود رہی، جبکہ سندھ میں اوسط جی ڈی پی گروتھ 3.0 فیصد ہونے کے باوجود فی کس آمدن میں اضافہ صرف 0.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق قومی معیشت میں پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ 53.6 فیصد ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فی کس آمدن میں بہتری کے لیے محض مجموعی ترقی کافی نہیں، بلکہ پیداوار، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر صوبے میں صنعتی توسیع، برآمدات میں اضافہ اور ہنر مند افرادی قوت کی شمولیت کو ترجیح دی جائے تو فی کس آمدن میں نمایاں بہتری ممکن ہوسکتی ہے۔