پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی اتحاد کی بازگشت: ’صدر اردوغان کی سوچ ہے کہ وسیع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے‘

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے۔ تاہم یہ معاہدہ گذشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے۔ تاہم یہ معاہدہ گذشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔

رضا حیات ہراج کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جمعرات کو ترک وزیر خارجہ خاقان فيدان نے استنبول میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدے پر بات چیت جاری ہے، لیکن اس معاملے پر ابھی کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا۔

اس سوال کے جواب پر کہ کیا کوئی اتحاد ہو سکتا ہے؟ اس پر ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ممالک اگر ایک دوسرے پر یقین رکھیں‘ تو وسیع تر علاقائی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صدر اردوغان کی ’یہ سوچ ہے کہ ایک وسیع اور جامع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے رضا حیات ہراج کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا مسودہ تیار ہے اور اس کے نفاذ کے لیے تینوں ممالک کی جانب سے حتمی منظوری درکار ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ، جس کا اعلان خلیجی خطے میں کشیدگی کے درمیان کیا گیا، بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر اس کے ممکنہ جوہری اجزاء کے بارے میں، کیونکہ اسلام آباد کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا میں چند روز سے یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی تھیں کہ شاید ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ برس ہونے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

اس حوالے سے چند روز قبل رضا حیات ہراج نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’سٹریٹجک اعتبار سے ترکی، چین، سعودی عرب اور آذربائیجان پاکستان کے قریبی دوستانہ ممالک ہیں اور سٹریٹجک پالیسی کے لحاظ سے ان سے تعاون کا ایک قریبی رشتہ ہے۔‘

پاکستان اور سعودی عرب
Getty Images

سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ برس ستمبر میں دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا تھا۔

معاہدے کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے اعلان نے کئی وجوہات کی بنا پر ہلچل مچا دی تھی۔

سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق پاکستان کے ساتھ نیا مشترکہ دفاعی معاہدہ ’تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارے اور اسلامی یکجہتی کے بندھن پر مبنی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کا بھی عکاس ہے۔‘

مبصرین کے مطابق مکہ اور مدینہ میں دو مقدس مساجد کے دفاع کے لیے سکیورٹی کا عزم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’اتحاد کی بنیاد‘ ہے۔

سنہ 1960 میں پہلی مرتبہ پاکستان کی فوج سعودی عرب کی سرزمین پر تب آئی تھی جب یمن میں مصری افواج کی طرف سے جنگ چھیڑنے کے خدشات نے سر اُٹھایا۔

اس کے بعد سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد تہران کے ساتھ تصادم کے خدشات کے دوران بھی پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مزید قریب آ گئے۔

سنہ 1991 میں عراق کی کویت پر چڑھائی کے دوران بھی پاکستان نے ایک فوجی دستہ سعودی عرب بھیجا تھا جسے مکہ اور مدینہ میں مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
Getty Images
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف

ترکی پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد کیوں کرنا چاہتا ہے؟

دفاعی اُمور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کر رہے ہیں۔

دفاعی اُمور کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ ترکی، جہاں ایک جانب یورپ میں ہے تو وہیں وہ مشرق وسطی اور عرب ممالک میں بھی دلچپسی رکھتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب ایک بڑی قوت ہے اور گو کہ پاکستان اس خطے میں نہیں ہے لیکن اس کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے اس خطے میں بھی پاکستان کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

اُن کے بقول ترکی بھی چاہتا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں جو خلفشار ہے اور علاقائی مسائل ہیں، اس میں وہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔‘

ترک اخبار ’ڈیلی صباح‘ سے وابستہ صحافی مہمت چلیک کہتے ہیں کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شمولیت یا اس میں توسیع کا خواہشمند ہے۔

مہمت چلیک ترک وزیر خارجہ کی نیوز کانفرنس میں موجود تھے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ترکی یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکی یا مصر ایک ہی پلیٹ فارم پر آ جائیں تو خطے کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ترکی یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے زیادہ تر مسائل کی وجہ علاقائی قوتوں کے مابین عدم اعتماد ہے اور اگر اس عدم اعتماد کو ختم کر دیا جاتا ہے تو خطے کے 80 فیصد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘

مہمت چلیک کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی جوہری طاقت، سعودی عرب کی معاشی طاقت اور ترکی کا خطے میں فوجی اور سفارتی اثر و رسوخ کا امتزاج ایک ڈیٹرنس فیکٹر اور خطے میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ترکی اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے، لیکن فی الحال اس پر مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

کیا سعودی عرب ترکی کی شمولیت پر اعتراض کر سکتا ہے؟

حالیہ برسوں میں ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کئی برسوں کی سرد مہری کے بعد کچھ بہتری آئی ہے۔

سنہ 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ اس وقت اردوغان نے اس معاملے پر سعودی ولی عہد کو نشانہ بنایا تھا۔

اسی عرصے کے دوران سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کو ترکی جانے اور وہاں کی بنی اشیا کے استعمال سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔

دسمبر 2019 میں ترکی کی سعودی عرب کو برآمدات 1.02 بلین ریال سے کم ہو کر 506 ملین ریال ہو گئی تھی۔ لیکن دو سال قبل دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آ گئی تھی۔

سعودی عرب اور ترکی کے ماضی میں تعلقات سے متعلق ایک سوال پر حسن عسکری نے کہا کہ ’یہ مسائل مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کے آپس میں رہے ہیں مگر گذشتہ ایک برس سے جو سیاسی منظر نامہ بن رہا ہے اس وقت سے سیاست کا رخ تبدیل ہوا ہے اور اب یمن، شام اور کسی حد تک عراق اور پھر افغانستان میں غیریقینی صورت حال نے ان ممالک کو باہمی تعاون کی راہیں تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘

ان کے مطابق ابھی اس باہمی تعاون سے متعلق گفت وشنید ہو گی کہ یہ تعاون کس نوعیت کا ہوگا۔ ان کی رائے میں ابھی فیصلہ نہیں ہوا مگر تینوں ممالک اس جانب آگے بڑھنے سے متعلق سوچ بچار ضرور کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری کی رائے میں ’فلسطین اور اسرائیل جنگ نے بھی ان ممالک کو قریب کیا ہے اور ترکی ایک سرگرم کھلاڑی کے طور پر خطے میں سامنے آنا چاہتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک ایک بلاک کے طور پر کام نہیں کر سکتے تاہم کچھ ممالک ایک دوسرے سے مل کر تعاون ضرور بڑھا سکتے ہیں۔

مہمت چیلک کی رائے میں بھی اب سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تناؤ کا یہ دور ختم ہو چکا ہے اور اب دونوں ممالک تعاون کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’دونوں ممالک کو اس بات کا ادراک ہے کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے وہ کیسے نمٹ سکتے ہیں۔‘ ان کی رائے میں خطے کے مسائل اور ایشوز پر دونوں ممالک کے مؤقف میں یکسانیت ہے۔ ان کی رائے میں اب اس اتحاد میں ترکی کی شمولیت پر بظاہر سعودی عرب کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ہے۔

ترکی کیسے اس معاہدے کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے؟

ایک وقت تھا جب ترکی کا شمار دنیا میں اسلحے کے خریدار ملک کے طور پر ہوتا تھا لیکن اب ترکی کی دفاعی سازو سامان کی صنعت کی ترقی کے بعد ترکی اسلحے فروخت کرنے والے ملک کے طور پر نمایاں ہو رہا ہے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران مختلف تنازعات کے دوران ترک ساختہ دفاعی سازوسامان نے 'گیم چینجر' کا کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کافی توجہ حاصل کی ہے۔

ترک ساختہ جنگی ڈرونز نے یوکرین، شام، لیبیا سمیت دیگر ممالک میں جاری تنازعات کے دوران اہم کردار ادا کیا ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ 80 فیصد اپنی دفاعی ضروریات مقامی طور پر پوری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی دنیا کے دیگر ممالک سے کم آسلحہ خریدتا ہے۔

ترکی سے تعلق رکھنے والی دفاعی سازوسامان بنانے والی پانچ کمپنیاں دنیا میں اسلحہ بنانے اور عسکری خدمات فراہم کرنے والی سو بہترین کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

سٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) نے 2024 میں بہترین دفاعی سازو سامان اور عسکری خدمات فراہم کرنے والی سو کمپنیوں کی رینکنگ جاری کی ہے۔

آمدن کی بنیاد پر کی گئی اس رینکنگ یا درجہ بندی میں ترکی کی کمپنی ایسلیسن 52 ویں، بایکار 66 ویں اور ترکی کی ایرو سپیس انڈسٹریرز اس فہرست میں 75 ویں نمبر پر ہے۔

دی مشینری اینڈ کیمیکل انڈسٹری کارپوریشن اس درجہ بندی میں 93 ویں نمبر پر ہے۔

سپری کی اس تازہ ترین رینکنگ میں ترکی کی کپمنیوں کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترکی کی دفاعی صنعت وسیع ہو رہی ہے اور دنیا میں اسلحہ کی تجارت میں ترکی کا اثرروسوخ بڑھ رہا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان دفاعی شعبے میں خود کفالت سے عوامی رائے اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دفاعی شعبے کی ترقی بین الاقوامی سطح پر ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔

مہمت چیلک کا کہنا ہے کہ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہونے کے ناتے اس اتحاد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کی رائے میں سعودی عرب بھی یہ سمجھتا ہے کہ ترکی کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں کئی امور پر آگے بڑھا جا سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کا فائدہ ہوگا۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق ترکی نے دفاعی پیداوار میں کافی کامیابی حاصل کی ہے اور ’ترکی اب اس صنعت کو مزید آگے لے جانا چاہتا ہے۔‘ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس خطے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

’دفاعی پیداوار اور مشقیں‘

فوربز اخبار میں گونے یلدیز نے اسی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو ترکی کی جانب سے نیٹو سے دور ہونے کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’اگر ترکی اس اتحاد میں شامل ہوا تو سب کچھ رفت رفتہ ہو گا، تیزی سے ڈرامائی انداز میں نہیں۔ ان کے مطابق آغاز میں مشترکہ دفاعی پیداوار، عسکری مشقیں اور ایک دوسرے کی بندرگاہوں تک رسائی پر خاموشی سے معاملات طے ہو سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’پاکستان اس دفاعی معاہدے میں کچھ ایسا لاتا ہے جو کم ہی ملکوں کے پاس ہے یعنی سخت سکیورٹی کی صلاحیت جس میں جوہری صلاحیت بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے اسی چیز کی وجہ سے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کیا اور اگرچہ جوہری صلاحیت کسی کو دی نہیں جاتی لیکن اس کا تاثر ہی کافی ہے۔‘

دوسری جانب ان کے مطابق ’اگر ترکی اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ ایک ایسا نیٹو کا رکن ملک ہو گا جس کے پاس ناصرف اتحاد کی دوسری بڑی فوج ہو گی بلکہ اس کے پاس سٹریٹیجک پوزیشن ہے اور دفاعی پیداواری صلاحیت بھی ہے۔‘

ان کے مطابق ’پاکستان کو واضح طور پر اس معاہدے کے معاشی پہلو میں دلچسپی ہو گی کیوں کہ دفاعی معاہدہ ایک کمرشل معاہدہ بھی ہوتا ہے جس میں مشترکہ پیداوار اور اسلحہ شامل ہوں گے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US