ٹرمپ کی گرین لینڈ پر توجہ، اس جزیرے پر اُن کے قبضے کا عزم اور ناکامی کی صورت میں یورپی ممالک پر بڑے محصولات لگانے کی دھمکیوں نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ یہ دباؤ نہ صرف امریکہ اور یورپ کے تعلقات پر بلکہ نیٹو کے اندر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں سُنیں تو یوں لگتا ہے جیسے روس اور چین گرین لینڈ کے ساحلوں پر گھات لگائے بیٹھے ہیں اور آرکٹک (قطب شمالی) میں اپنی طاقت بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ ’یہاں (گرین لینڈ کے خطے میں) روسی ڈسٹرائرز (چھوٹی جنگی کشتیاں) موجود ہیں، یہاں چینی ڈسٹرائرز ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہاں روسی آبدوزیں ہر جگہ موجود ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کے مطابق اِسی صورتحال کے تناظر میں امریکہ کے لیے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے۔
تو روس نے گرین لینڈ سے متعلق اپنے اِس مبینہ منصوبے کے افشا ہونے اور گرین لینڈ پر امریکی قبضے کے امکان پر کیا ردِعمل دیا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ روس خوش نہیں ہو گا کہ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق اُن کے خفیہ منصوبے کو آشکار کر دیا۔
لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے۔
درحقیقت روس کے ایک سرکاری اخبار نے ایک حیران کن مضمون شائع کیا، جس میں ٹرمپ کی اس معاملے میں تعریف کی گئی اور اُن یورپی رہنماؤں پر تنقید کی گئی جو گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
سرکاری اخبار میں مصنف روسیسکایا گزیٹا نے لکھا کہ ’امریکی صدر کی تاریخی پیشرفت کے راستے میں کوپن ہیگن (ڈنمارک) کی ضد اور یورپی ممالک کی جھوٹی یکجہتی آڑے آ رہی ہے، وہ یورپی ممالک جن میں امریکہ کے نام نہاد دوست برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔‘
اخبار نے مزید لکھا کہ ’یورپ کو اس امریکی عظمت کی ضرورت نہیں جو ٹرمپ فروغ دے رہے ہیں۔ برسلز (بیلجیئم) کی کوشش ہے کہ وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرم) میں صدر (ٹرمپ) کو شکست دے کر اُن کی زندگی کا سب سے بڑا یا عظیم معاہدہ روک دیا جائے۔‘
روسی اخبار کی اس رپورٹ میں اسے ’گریٹیسٹ ڈیل‘ یعنی عظیم معاہدہ قرار دیا گیا اور اس رپورٹ کا مصنف یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ اس سے اس کی مراد کیا ہے۔
اخبار نے وضاحت کی کہ اگر ٹرمپ چار جولائی 2026 (جب امریکہ اپنی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ منائے گا) تک گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کر لیتے ہیںتو وہ تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر امر ہوں گے جنھوں نے امریکہ کی عظمت کو ثابت کیا۔
روس کے سرکاری اخبار میں یہ رپورٹ پڑھتے ہوئے مجھے بار بار خود کو یاد دلانا پڑ رہا ہے کہ میں روسی سرکاری اخبار ہی پڑھ رہا ہوں، نہ کہ امریکہ میں کسی ٹرمپ حامی اخبار کا تجزیہ۔
رپورٹ میں مزید لکھا گیا کہ ’گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے بعد امریکہ رقبے کے حساب سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن جائے گا (رقبے کے لحاظ سے روس دنیا کا سب سے بڑا جبکہ کینیڈا دوسرا بڑا ملک ہے)۔ یہ امریکی عوام کے لیے اتنا ہی بڑا واقعہ ہو گا جتنا امریکہ میں غلامی کا خاتمہ یا نپولین کی جنگی فتوحات۔‘
روسی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں امریکی صدر کو خبردار بھی کیا کہ ’گرین لینڈ کے معاملے پر پیچھے ہٹنا خطرناک ہو گا کیونکہ اس سے ٹرمپ کی رپبلیکن پارٹی کی پوزیشن امریکہ میں کمزور ہو گی اور ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اکثریت مل سکتی ہے جبکہ انتخابات سے پہلے گرین لینڈ کا امریکہ میں فوری انضمام اس سیاسی رجحان کو الٹ سکتا ہے۔‘

سادہ الفاظ میں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درحقیقت یہ ٹرمپہی کے مفاد میں ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھائیں۔
تو چلیں اب زرا جائزہ لیتے ہیں۔
روس کی خوشی اور حوصلہ افزائی کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال سے اسے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ کی گرین لینڈ پر توجہ، اس جزیرے پر اُن کے قبضے کا عزم اور ناکامی کی صورت میں یورپی ممالک پر بڑے محصولات لگانے کی دھمکیوں نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ یہ دباؤ نہ صرف امریکہ اور یورپ کے تعلقات پر بلکہ نیٹو کے اندر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
ماسکو کے نزدیک مغربی ممالک کے اتحاد کو کمزور یا تقسیم کرنے والی کوئی بھی پیشرفت روس کے لیے مثبت چیز ہے۔
روسی اخبار ’موسکووسکی کومسومولیتس‘ نے لکھا کہ ’یورپ (گرین لینڈ کے معاملے پر) مکمل طور پر بے بس ہے اور سچ کہیں تو یہ دیکھنا خوشی کا باعث ہے۔‘
مزید برآں، گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی دھمکیوں کو روس کے حامی مبصرین یوکرین جنگ کو جواز دینے کے لیے عالمی سطح پر استعمال کر رہے ہیں۔
فی الحال یوکرین میں فتح روس کی اولین ترجیح ہے اور روس سمجھتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھنا اِس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو گا۔
اسی لیے روس یورپ پر تنقید کر رہا ہے لیکن ٹرمپ پر نہیں۔