پاکستان سپر لیگ کی مقبول ترین فرنچائز لاہور قلندرز کی ملکیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں جب سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی ایک ثالثی ٹربیونل نے موجودہ مالکان عاطف رانا اور سمین رانا کے خلاف کمپنی کے شیئرز اور فرنچائز میں ملکیت کی فیصد کو لے کر فیصلہ سنا دیا۔
ثالثی ٹربیونل جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس مقبول باقر کر رہے تھے، نے بدھ کے دن فیصلہ سنایا کہ عاطف اور سمین رانا جو کہ دونوں بھائی ہیں، کو اپنے بڑے بھائی فواد رانا کی کمپنی کیلکو کو شیئرز کی مد میں تقریباً تین بلین روپے ادا کرنا پڑیں گے یا پھر ان کو فواد رانا یعنی کیلکو کو اپنی کمپنی کوثر رانا ریسورسز لمیٹڈ کو 51 پرسنٹ شیئرز دینے پڑیں گے۔
اس فیصلے کا اثر لاہور قلندرز پر اس لیے پڑ رہا ہے کیونکہ پی ایس ایل کی شروعات میں کیلکو نے فرنچائز کو خریدا تھا۔ بعد میں شیئرز ٹرانسفرز کی بدولت قلندرز کی ملکیت کے آر آر کو چلی گئی۔
مگر فواد رانا نے سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا کہ دھوکے سے کیلکو کے شیئرز کے آر آر کو ٹرانسفر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے کیلکو کو اور ان کو شدید بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ٹربیونل کے فیصلے میں کہا کہ جو بھی شیئرز عاطف اور سمین رانا نے ٹرانسفر کیے تھے اپنی کمپنی میں، وہ غیر قانونی تھے اور اب اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
ٹربیونل نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ عاطف اور سمین رانا نے خاموشی سے کے آر آر کے 30 پرسنٹ شیئرز کسی نیازی صاحب کو پانچ ملین ڈالرز میں فروخت کر دیے تھے جس کا فواد رانا کو علم نہیں تھا۔
ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں اس چیز کو مدنظر رکھا کہ دونوں بھائیوں نے تسلیم کیا کہ کوئی منی پے آرڈر یا کراس چیک کے ذریعے شیئرز کے لیے ادائیگی کی گئی ہو۔
ٹربیونل کے اس فیصلے کے بعد اب آنے والے اگلے دنوں میں سمین اور عاطف رانا کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آیا وہ تقریباً تین بلین روپیز اپنے بڑے بھائی کو ادا کرتے ہیں یا پھر لاہور قلندرز کے 51 پرسنٹ شیئرز اُن کو واپس کرتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ لاہور قلندرز کی ملکیت کی اکثریت فواد رانا کے پاس چلی جائے گی۔
یاد رہے کہ جب پی ایس ایل شروع ہوا تھا ایک بڑی وجہ اس کی بڑھتی مقبولیت میں فواد رانا کا لاہور قلندرز کے ساتھ ہونا ایک بڑی وجہ تھی۔