پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کو نہ بھیجیں۔
راشد نے کہا کہ یہی صحیح وقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایسا فیصلہ کرنا چاہیے جس سے کرکٹ میں چند کرکٹ بورڈز کی اجارہ داری ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی سی بی ٹیم کو ورلڈ کپ میں نہیں بھیجتا اس سے آئی سی سی کو بہت مالی نقصان ہوگا کیونکہ براڈکاسٹرز اور اسپانسرز دونوں پاکستان اور بھارت کے میچز دیکھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مؤقف کی حمایت کرنی چاہیے کہ بنگلا دیش کا بھارت میں نہ کھیلنے کا اور ان کے میچز سری لنکا میں کرانے کا مطالبہ غلط نہیں ہے۔ راشد نے کہا کہ آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ صحیح برتاؤ نہیں رکھا ہے اور ان کو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کی حمایت چاہیے۔
راشد نے کہا کہ ورلڈ کپ نہ کھیلنے سے پاکستانی کرکٹ شائقین اور کھلاڑیوں کو ڈس اپوائنٹمنٹ کیا، انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو اس چیز پر ضرور غور کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان اگر ورلڈ کپ میں نہیں کھیلتا تو اس سے بہت فرق پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اپنے ایونٹس سے اگر 50 فیصد ریونیو پاکستان اور بھارت کے میچز سے کماتا ہے لیکن پاکستان ورلڈ کپ میں نہیں گیا تو ان کو بہت بڑا جھٹکا لگے گا اور موجودہ حالات جو چل رہے ہیں دنیائے کرکٹ میں اس پر نظرثانی کرنے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔