ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو دوبارہ سکیورٹی فراہم کردی گئی

image

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو سکیورٹی واپس دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو سکیورٹی واپس دے دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا ہے اور انہیں بھی سکیورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔

قبل ازیں کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا، اراکین اسمبلی اور سینئر رہنماؤں کی پولیس سکیورٹی اچانک واپس لینے پر پارٹی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی پولیس سکیورٹی ہٹا دی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سکیورٹی واپس لیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ایم کیو ایم کے ایک رہنما نے بتایا کہ ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید اس فیصلے کی وجہ بنی ہو، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر ایم کیو ایم رہنماؤں نے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی ہے جس میں سکیورٹی واپس لینے کے فیصلے پر مؤقف اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپسی کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوگی، ترجمان سندھ حکومت

کراچی میں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے یقیناً کوئی نہ کوئی وجہ موجود ہوگی۔

سعدیہ جاوید نے کہا کہ شہر میں پولیس نفری کی کمی ہے اور ممکن ہے اسی باعث ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس خود کوئی پولیس سکیورٹی موجود نہیں جبکہ سندھ حکومت کے ایم پی ایز کو بھی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، اس لیے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کے فیصلے کے پیچھے ضرور کوئی انتظامی وجوہات ہوں گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US