اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان نے مئی 2025 میں بھارتی بلااشتعال عسکری جارحیت کے جواب میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کیا۔
سلامتی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے واضح کیا کہ یو این منشور سے ہٹ کر یکطرفہ اقدامات اجتماعی سلامتی کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں کثیرالجہتی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور پاکستان خود بھی ایسے اقدامات کا سامنا کر چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے کی گئی عسکری کارروائی بین الاقوامی قانون اور پاکستان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یو این منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور جبر یا استثنیٰ پر مبنی کسی بھی "نئے معمول" کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
عاصم افتخار نے مزید زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اپنی قراردادوں کے مؤثر نفاذ کے لیے منظم نگرانی کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے ساتھ زیادہ مربوط اور منظم رابطہ قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔