قومی ٹیم کو ورلڈ کپ کی تیاری کی ہدایت، لاہور میں ٹریننگ کیمپ جاری

image

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کا اعلان بھی جلد ہوجائے گا۔

پی سی بی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ بورڈ چیئرمین محسن نقوی کے لیے سب سے بڑا چیلنج جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ ٹیم کو ورلڈ کپ میں نہیں بھیجتے تو پاکستان کا پرانا دوست ملک سری لنکا ناراض ہوسکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے سارے میچز سری لنکا میں کھیلنے ہیں بشمول 15 فروری کو بھارت کے خلاف کولمبو میں۔ اور اگر پاکستان فائنل تک رسائی حاصل کرتا ہے تو فائنل بھی کولمبو میں ہوگا اور پاکستان کے بھارت سے مزید میچز ہوسکتے ہیں۔

ان سب چیزوں کا مطلب یہ ہے کہ سری لنکا کو ورلڈ کپ کے میچز کرانے سے مالی طور پر بہت فائدہ ہوگا اگر پاکستان سری لنکا میں اپنے میچز کھیلتا ہے۔ میزبان مُلک اور آئی سی سی ہوسٹنگ فیس کے علاوہ یہ بھی حق دیتا ہے کہ وہ میچز میں ٹکٹس کے پیسے ہاسپٹلٹی باکسز اور سروسز وغیرہ کی کمائی اپنے پاس رکھے۔

ذرائع نے کہا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں ٹیم نہیں بھیجتا تو سری لنکا کو بہت نقصان ہوگا اور یہ پاکستان سری لنکا کے درمیان کرکٹ اور مجموعی تعلقات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پی سی بی اب تک فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ آیا ٹیم کو ورلڈ کپ میں بھیجے یا نہ بھیجے۔ ذرائع نے بتایا کہ جب محسن نقوی وزیراعظم شہباز شریف سے ملے تو وزیراعظم نے بھی اس چیز کا ذکر کیا کہ خیال رہے کہ سری لنکا ناراض نہ ہو۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں یہ بھی بات ہوئی کہ پاکستان ورلڈ کپ میں جائے مگر بھارت سے میچ نہ کھیلے اور وزیراعظم نے اس کی بھی حمایت نہیں کی اور اس بات پہ زور دیا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ سیاست اور کھیل کو الگ الگ رہنا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائک ہیسن اور کھلاڑیوں کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ اپ ورلڈ کپ جانے کی تیاری پکڑیں جس کی وجہ سے ٹریننگ کیمپ لاہور میں جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ محسن نقوی اس وقت صرف آئی سی سی اور بھارت کو احساس دلانا چاہ رہے ہیں کہ انہوں نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور ابھی بھی بنگلا دیش کی ٹیم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محسن نقوی آئی سی سی اور بی سی سی آئی پر یہ کہہ کر کہ پیر تک فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کی ٹیم ورلڈ کپ میں کھیلے یا نہ کھیلے، پریشر بڑھا رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US