وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت لگائے گئے سپر ٹیکس کے خلاف کیس میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے کیس کی قابل سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات مسترد کرتے ہوئے حکومت کو آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
مختصر حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ درخواستوں کی قابل قبولیت کے حوالے سے اعتراضات مسترد کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے 2015 میں متعارف کرائی گئی اور 2022 میں مزید وسعت دی گئی انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 4B اور 4C کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے سیکشن 4C سے متعلق ہائی کورٹ کے کچھ فیصلے بھی جزوی طور پر کالعدم قرار دیے اور واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو آئینی طور پر آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یہ کیس مختلف کمپنیوں کی جانب سے سپر ٹیکس کے خلاف دائر کردہ چیلنجز سے متعلق تھا، جو سالانہ 3 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی والی کمپنیوں پر عائد ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں 2,000 سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ وکلاء نے دلائل مکمل کر لیے تھے اور عدالت نے فیصلہ سنانے کا اشارہ دیا تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق قانونی کارروائیوں کی وجہ سے 200 ارب روپے سے زیادہ کی ٹیکس آمدنی کی وصولی میں تاخیر ہوئی، جس سے یہ ملک کا سب سے بڑا ٹیکس تنازعہ بن گیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد سپر ٹیکس کے گرد موجود قانونی غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔