راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے۔
علیمہ خان نے بتایا کہ آٹھ فروری کے بعد گرفتاریوں کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ملک میں رول آف لا ختم ہو چکا ہے اور اب ججز کے اختیار میں بھی کچھ نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں انڈر ٹرائل کیسز پر ٹی وی پر بات کرنے سے لوگ ڈرتے تھے اب کھلے عام توہینِ عدالت کی جاتی ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ نیب کی ہدایات پر فیصلے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں اور ججز انہی ہدایات پر فیصلہ سناتے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ نجم نامی طالبعلم کو صرف بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے لگانے پر حراست میں لیا گیا۔ علیمہ خان نے بتایا کہ پولیس اہلکار جنگلی انداز میں آئے خواتین کو دھکے دیے گئے۔ انہوں نے خود پیشکش کی کہ مجھے گرفتار کر لیں بچے کو چھوڑ دیں۔
علیمہ خان نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخلاقیات ختم ہو چکی ہیں اور پروموشن کے لیے ظلم کیا جا رہا ہے۔