او جی ڈی سی ایل کیس: سول سرونٹس غیرقانونی احکامات ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ

image

سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل میں غیرقانونی بھرتیوں پر دی گئی سزا کے خلاف نظرثانی اپیل کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ تقرریوں کا ایک واضح طریقہ کار ہوتا ہے کوئی بادشاہ نہیں کہ بس آرڈر دے دے۔ انہوں نے کہا کہ سول سرونٹس وزیراعظم کے بھی غیرقانونی احکامات ماننے کے پابند نہیں ہوتے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ وزراء سے عوام نوکریاں مانگتے ہیں تاہم جب یہ بھرتیاں ہوئیں اُس وقت احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں زائد بھرتیاں ہیں پی آئی اے کا اگر انٹرنیشنل ایئر لائنز سے موازنہ کیا جائے تو فرق واضح ہو جاتا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے وزیر پیٹرولیم انور سیف اللہ نے چیئرمین او جی ڈی سی ایل کو تقرری لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت کی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق پرنسپل اسٹاف آفیسر نے تحریری طور پر بتایا کہ نوکریوں کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا دباؤ تھا جبکہ تقرریوں کے لیٹرز بھی وزیر کے دفتر سے بھجوائے گئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ پی آئی اے میں ضرورت سے زیادہ بھرتیوں کے باعث نجکاری کی نوبت آئی لہٰذا عدالت نظرثانی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھے۔عدالت نے مزید سماعت بعد کے لیے ملتوی کر دی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US