وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا یوتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو سیاسی اور تعلیمی پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے طالب علمی کی سیاست سے بہت کچھ سیکھا جس نے ان کی سیاسی بصیرت کو جِلا بخشی۔ عطاء اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا کے عوام کی خوشحالی کو ان کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبے کا موجودہ سیاسی ماحول اکثر ترقی کے بجائے نقصان کا سبب بنتا ہے، جس کے باعث شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے شیڈو کابینہ کے قیام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پالیسی سازی میں مضبوط بیانیہ وقت کی ضرورت ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے دور کے ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم اور دیگر تعلیمی اقدامات میرٹ کی بنیاد پر شروع کیے گئے، جن سے طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا۔ انہوں نے دانش اسکولز کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نادار اور مستحق طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور ان کے فارغ التحصیل طلبہ آج مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے دوران لیپ ٹاپ اسکیم نے طلبہ اور ملازمین کو ورک فرام ہوم کے دوران تعلیم اور کام جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ دانش اسکولز کا دائرہ کار اب پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں تک پھیلایا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والا فائدہ صرف صوبے کے عوام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں پی کے ایل آئی سے آر آئی سی تک فراہم کی جانے والی سہولیات اور سیف سٹی منصوبے کو عوامی تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات قرار دیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات حکومت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے سیاست میں مثبت مقابلے، ترقی اور خوشحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتقام اور گالم گلوچ کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں۔
آخر میں وفاقی وزیر نے فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن کو معاشرے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے شفافیت، میرٹ اور مثبت پالیسیوں پر عمل ناگزیر ہے۔