امریکی سفارتخانہ اسلام آباد نے ڈھائی سو سالہ جشن آزادی، فریڈم 250، کے سلسلہ میں ایک لیکچر سیریز کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔ اس سرگرمی کا مقصد پاکستانیوں کو کلیدی اہمیت کی حامل ترجیحات، مثلاً انٹرپرینیورشپ، ڈیجیٹل معیشت اور نایاب معدنیات کے بارے میں روشناس کرانا ہے۔
اس سیریز کے تحت امریکی کمپنی برٹن سنوبورڈز کی بانی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی صدر ڈونا کارپینٹر اور امریکی محکمہ خارجہ کے اسپورٹس تبادلہ پروگرام کی ایلومنائی اور پاکستانی کھلاڑی ثمر خان نے کھیلوں سے وابستہ افراد، نوجوانوں اور تجارتی رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔
یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان کی نو تعمیر شدہ عمارت میں 28 جنوری کو منعقدہ والی اس تقریب کے دوران مقررین نے اسپورٹس انٹرپرینیوئر شپ کا نوجوانوں کی ترقی، جدت اور بین الثقافتی تبادلوں میں کردار اُجاگر کیا۔ دوران نشست، روز مرہ زندگی کی مہارتوں، جیسا کہ قیادت، ٹیم ورک اور استقامت کو مضبوط بنانے میں کھیلوں کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کھیل نوجوانوں کو معاشرتی خدمت کے وہ مواقع فراہم کرتے ہیں جو مقامی اور عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
اس موقع پر امریکی سفارتخانے کے منسٹر قونصلر برائے پبلک ڈپلومیسی اینڈی ہاس نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی نوجوان اور توانائی سے بھرپور افراد پر مشتمل ہے اور یہاں کھیلوں اور انٹرپرینیورشپ کے حوالے سے غیر دریافت شدہ باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں، کھلاڑیوں اور پیشہ ور افراد سے تعلق اُستوار کرتے ہوئے ہم نہ صرف تبادلہ خیال کو فروغ دیتے ہیں اور کھیلوں کے ذریعے افراد کو بااختیار بنانے کے نئی راہیں دریافت کرتے ہیں بلکہ اپنے دونوں ممالک کی خوشحالی کی ضامن شراکت داریوں کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ اِس نوعیت کے تعلقات اشتراک، اختراع اور معاشی نمو کے لیے نئے مواقع تخلیق کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کی تکمیل میں پیش رفت اور امریکا اور پاکستان کے مابین روابط مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ فریڈم 250 سیریز کے تحت پاکستان میں امریکی معاونت سے چلنے والے تبادلہ پروگرامز کے فارغ التحصیل افراد، امریکی کاروباری شخصیات اور دیگر امریکی ماہرین کے لیکچرز کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ سیریز مختلف شعبوں میں امریکی مہارتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا کی آزادی کے ڈھائی سو سالہ جشن کے موقع پر دیرینہ شراکتوں کے قیام میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔