حکومتِ سندھ نے گل پلازہ سانحے کے بعد شفاف تحقیقات اور اصلاحی اقدامات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس میں تفصیلات بتائیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پہلے دن سے حکومت کی پوری توجہ ریسکیو آپریشن اور متاثرین کی بحالی پر رہی ہے۔ سانحے کے بعد سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا اور ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور اسے میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں دو سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے جن میں سے متعدد افراد آگ لگنے کے بعد خود نکل آئے جبکہ کئی کو ریسکیو کیا گیا۔ بدقسمتی سے کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے شواہد کی بنیاد پر اہم مشاہدات اور نتائج اخذ کیے، جن میں محکمہ سول ڈیفنس کی 2023 سے جاری فائر سیفٹی آڈٹس کے باوجود مؤثر اقدامات نہ کرنا اور لیز کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
اس غفلت پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرولر ضلع جنوبی کراچی کو فوری طور پر معطل کیا گیا ہے جبکہ دیگر متعلقہ حکام کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کمشنر کراچی اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا خاص طور پر فائر مین فرقان جو آگ بجھاتے ہوئے شہید ہوئے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کسی سیاسی دباؤ میں نہیں ہے اور تمام اداروں اور افراد کی ذمہ داریاں شفاف طریقے سے سامنے لائی جائیں گی۔ متاثرین کے گھروں پر ایک ایک کروڑ روپے کے چیک تقسیم کیے جا رہے ہیں اور لیز کی تحقیقات اینٹی کرپشن کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ کی انتظامیہ کی جانب سے فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا اور قانونی کارروائی کے بعد آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اصلاحات کی جائیں گی۔ وزیر اطلاعات نے یقین دلایا کہ تمام ریسکیو اور متعلقہ اداروں کو ایک چھت تلے لا کر آئندہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے۔