سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی سندھ کابینہ کی سب کمیٹی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر اہم فیصلے کیے گئے۔
سب کمیٹی کی رپورٹ میں سول ڈیفنس کی غفلت ثابت ہونے پر ڈائریکٹر اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو معطل کردیا گیا، سول ڈیفنس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق کے ڈبلیو ایس سی کی نااہلی کے باعث فائر بریگیڈ کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، اس بنا پر چیف انجینئر (بلک) اور انچارج ہائیڈرینٹس KWSC کو بھی معطل کیا گیا۔
فیکٹ اینڈ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا کہ KMC، فائر بریگیڈ او ریسکیو 1122 کے پاس ناکافی آلات اور تربیت کی کمی سامنے آئی، غفلت ثابت ہونے پر سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز KMC کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔
فیکٹ اینڈ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی نظام موجود نہیں تھا، قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی، عمارت منظور شدہ نقشے کے خلاف تعمیر شدہ تھی، محفوظ راستے متاثر تھے، گل پلازہ انتظامیہ کے کردار کی پولیس تفتیش کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مجرمانہ غفلت ثابت ہونے پر قانونی کارروائی ہوگی۔
رپورٹ میں SBCA اور KMC میں دہائیوں پر محیط بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، عمارت کی منظوریوں اور لیز توسیع کا مکمل آڈٹ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ داروں کا تعین کرنے کا حکم دیا گیا۔
سندھ کابینہ کی سب کمیٹی نے گل پلازہ سانحہ پر عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے جج نامزد کرنے کی سفارش کی۔