وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے وزارت تجارت میں ملاقات کی، جس میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، کان کنی، زراعت، توانائی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان بھی موجود تھے۔
وزارت تجارت کے اعلامیے کے مطابق فریقین نے بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی حالات، سپلائی چین کے چیلنجز اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں موزوں تجارتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر جام کمال خان نے ویلیو ایڈنگ اور ایکسپورٹ پر مبنی شعبوں میں معیاری غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں کان کنی اور معدنیات کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ وفاقی وزیر نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کان کنی منصوبوں، جدید ایکسپلوریشن تکنیک، سروے مہارت اور ذمہ دار مائننگ گورننس پر زور دیا۔ اس موقع پر کینیڈین ہائی کمشنر نے کان کنی کی خدمات اور ٹیکنالوجی میں کینیڈا کی مہارت کو اجاگر کرتے ہوئے تکنیکی معاونت اور بزنس ٹو بزنس روابط بڑھانے کی پیشکش کی۔
فریقین نے ٹورنٹو میں ہونے والی پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا (PDAC) کانفرنس میں پاکستان کی شرکت پر بھی گفتگو کی۔ زرعی تعاون کے تحت پاکستان کو کینیڈین کینولا کی برآمدات کی بحالی کا خیرمقدم کیا گیا اور بروقت درآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ڈیری اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں جانوروں کی جینیات، جدید ڈیری فارمنگ اور بیماریوں پر قابو پانے کے طریقہ کار میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ توانائی کے شعبے میں کینیڈین سرمایہ کاری، بالخصوص قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے لیے ریگولیٹری سہولتوں اور بروقت منظوری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدے (BIT) پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مذاکرات میں تیزی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کا اختتام ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کے ساتھ ہوا۔