وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں طالبعلم کو اسپیشل سپر سپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی سے قانون کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
سماعت کے دوران آئینی عدالت نے کہا کہ ججز کو جذبات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہیے بلکہ قانون کے مطابق بلا خوف و امتیاز انصاف کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں اور ہائی کورٹس ہمدردی یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کر سکتیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتی، عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل کرنے میں ہے، اور ججز غیر جانبدار منصف ہوتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو، اور ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم سے متعلق تھا، جو گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے اور طبی وجوہات کی بنا پر سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے تھے۔ طالبعلم کی درخواستیں یونیورسٹی نے مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد وہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائیکورٹ گئے، اور ہائیکورٹ نے انہیں سپر سپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی۔