پاپولر لیفٹ الائنس کی کانفرنس، کراچی پریس کلب کے باہر سے کئی کارکنان زیر حراست

image

پاپولر لیفٹ الائنس کی جانب سے کراچی پریس کلب میں جمہوری قوتوں کی کانفرنس منعقد کی گئی۔

کانفرنس میں پاپولر لیفٹ الائنس کے کنوینر اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل امداد قاضی، عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، جئے سندھ محاذ کے عبدالخالق جوڻیجو، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما منیر نائچ، عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما خادم ٹالپر، پاکستان انقلابی پارٹی کے ڈاکٹر رمضان، نیشنل پارٹی کے مجید ساجدی، مزدور کسان پارٹی کے عتیق، گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی کے محمد حسنین، جموں کشمیر نیشنل پیپلز پارٹی کے سلطان کشمیری، لیفٹ آرگنائزنگ کمیٹی کے قمر عباس، سندھ ہاری کمیٹی کے کامریڈ اقبال سمیت دیگر ٹریڈ یونینوں، سماجی اور پروفیشنل تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ صورتحال پر اپنی اپنی جماعتوں کے مؤقف پیش کیے۔

اس موقع پر رہنماؤں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے مطالبات تسلیم کیے جائیں اور ملک میں سیاسی و جمہوری عمل کو فروغ دیا جائے۔ کارپوریٹ فارمنگ کمپنیوں کو جنگلات کی زمین دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

جمہوری قوتوں کی کانفرنس میں شریک تمام سیاسی پارٹیوں ،مذدور و کسان اور پروفیشنل تنظیموں کے قائدین متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل جمہوری طریقوں اور وہاں کے عوام کی خواہش کے مطابق نکالا جائے، ملک کوکثیر القومی مملکت قرار دے کر تمام قومی وحدتوں کو برابر کی حیثیت دے کر اپنے وسائل پر مکمل اختیار دے کر ان کا حق حکمرانی تسلیم کیا جائے۔

مرکز کے پاس صرف وہ اختیارات ہوں جو وفاقی اکائیوں کی منتخب اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت دینے کے لیے متفق ہو۔ یعنی اختیارات کی منتقلی وفاق سے صوبوں کو دینے کے بجائے صوبوں سے وفاق کو دینے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انتظامی بنیاد پر قومی وحدتوں کو توڑ کر نئے صوبے بنانے کی کوششوں کو ختم کیا جائے۔

تمام شہریوں کی مساوی حیثیت، مساوی حقوق اور مساوی تحفظ فراہم کیا جائے، گزشتہ 5 سال میں آئین میں کی گئی تمام تبدیلیاں خاص طور پر پیکا قوانین، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم، مائیننگ اینڈ منرل ایکٹ، گرین ٹوئرزم ،ایس آئی ایف سی اور اس کے تحت بنائے گئے تمام ادارے، کیے گئے تمام فیصلے اور شروع کیے گئے تمام منصوبے مکمل طور پر ختم کیے جائیں۔

کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبوں کے لیے ملک بھر میں مخصوص کی گئی لاکھوں ایکڑ زمین کے نوٹیفکیشن واپس لیے جائیں، اور وہ تمام زمینیں مقامی بے زمین کسانوں کو دی جائیں، شہریوں کو اغوا، لاپتہ اور گرفتار کرنے کا سلسلہ ختم کرکے لاپتہ کیے گئے تمام شہریوں کو ظاہر کیا جائے، تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

فورتھ شیڈول، ڈیتھ اسکواڈ اور سی ٹی ڈی ختم کیے جائیں، ایمان مزاری، ہادی چٹھ، ڈاکٹر ماه رنگ، علی وزیر، ادریس خٹک، ڈاکٹر یاسمین راشد، گلگت بلتستان کے شاکر قراقرمی، نصرت حسین، کشمیر سے صحافی سہراب برکت سمیت ملک بھر سے گرفتار کیے گئے اور سزا یافتہ تمام سیاسی قیدیوں، ملازمین، محنت کشوں اور اساتذہ کو رہا کیا جائے، سالار فیاض علی، شبیر مایار و دیگر پر قائم جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں۔

زرعی اصلاحات کر کے اضافی زمینیں اور تمام سرکاری زمینیں مقامی بے زمین ہاریوں میں تقسیم کی جائیں، مہنگائی اور بیروزگاری ختم کرنے کے لیے ریاست کے انتظامی اخراجات خاص طور پر افسر شاہی کے لیے مختص بجٹ میں 50 فیصد کمی کی جائے اور تعلیم و صحت کی بجٹ میں اضافہ کیا جائے، حکمرانوں کے صوابدیدی فنڈ ختم کیے جائیں، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے تمام ذرائع کی قیمتوں میں کم سے کم 50 فیصد کمی کی جائے۔

دریں اثناء پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر اچانک گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کرکے پاپولر لیفٹ الائنس کے کارکنان کو حراست میں لے لیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US