مسقط میں ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملاقات کی۔ مذاکرات کے انتظامات پر تہران نے عمان کا شکریہ ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ایران کو تین سال کے لیے یورینیم افزودگی روکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ قطر، ترکی اور مصر نے مذاکرات کے لیے فریم ورک بھی پیش کیا ہے۔
اگرچہ بات چیت جاری ہے، کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا حکم دیا، اور مشرق وسطیٰ میں تین امریکی ریڈار طیارے پہنچ گئے۔ ایران نے جدید ترین میزائل "خرم شہر فور" کو زیر زمین مرکز منتقل کردیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ کھلی آنکھوں اور گزشتہ سال کی یادوں کے ساتھ سفارتی میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔