ہیلتھ کٸیر کے لیے صرف اسپتال بنانا ہی کافی نہیں ہوتا، وفاقی وزیر صحت

image

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب ہیلتھ کٸیر کی بات آتی ہے تو صرف اسپتال بنانا ہی کافی نہیں ہوتا، ہمیں اپنے پیاروں کو مریض بننے سے روکنا ہے۔

کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے 59 ویں کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں بہت شکر گزار ہوں کہ مجھے اس بہترین پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔

تقریب میں نامور ماہرین صحت و فارغ التحصیل ڈاکٹرز نے شرکت کی، اس موقع پر 947 فارغ التحصیل کو فیلوشپ اور ممبرشپ دی گئی۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پاکستان اپنے ڈاکٹروں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، ہمارے ڈاکٹرز ہمارے لیے سرمایہ فخر ہیں، ہمارے ڈاکٹرز نے ہمیشہ پاکستان کا نام روشن کیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی توجہ سات دہائیوں سے صحت کے حوالے سے صرف بلڈنگز بنانے پر مرکوز رہی، مریض ہونے سے روکنے کیلیے کچھ نہیں کیا گیا، ہمیں اپنے پیاروں کو مریض بننے سے روکنا ہے، جب ہیلتھ کٸیر کی بات آتی ہے تو صرف اسپتال بنانا ہی کافی نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ ہر سال ملک میں 6.19 ملین بچے پیدا ہورہے ہیں، ہمیں اپنی بڑھتی آبادی کو قابو کرنا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈاکٹر دن میں تین سو سے چار سو مریض دیکھتا ہے، آپ کیسے امید کرتے ہیں کہ ایک انسان اتنے مریضوں کو چیک کرسکتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بہترین انسان وہ ہیں جو دوسرے کام آئے، ہمیں دوسروں کیلیے اسانیاں پیدا کرنے کیلیے کام کرنا ہوگا۔

انھوں نے ڈاکٹرز کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی اعلیٰ مخلوق آپ کے پاس اس وقت آتے ہیں جب تکلیف میں ہوتے ہیں، اگر آپ اپنی معلومات سے اس انسان کی تکلیف دور کریں تو اللہ کیا انعام دے گا، اگر ڈاکٹرز کے چیک کرنے میں کوتاہی ہوگئی تو آپ کی بھی پکڑ ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز کے مسکرا کر بات کرنے سے مریض ٹھیک ہوجاتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US