آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت طلبہ کی جامعۃ الرشید کے سرپرستِ اعلیٰ اور الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبد الرحیم سے خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں قومی سلامتی، دہشت گردی، ریاستی استحکام اور پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ ریاستِ پاکستان کے بارے میں گفتگو ایسے ہونی چاہیے جیسے اپنے گھر کے بارے میں کی جاتی ہے، جبکہ ملک اور افواجِ پاکستان کے خلاف بیانیہ اپنانے والے کسی صورت قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام، شریعت، جہاد اور اسلامی انقلاب کے نام پر ملک میں پھیلایا جانے والا فتنہ قرآن و سنت کے سراسر منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نسل اور لسانیت کی بنیاد پر قائم تنظیمیں اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں اور شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو قتل کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کے سیاسی فرنٹس پاکستان کے اندر سرگرم ہیں، جبکہ مغربی طاقتیں افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیں اور کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک صف میں کھڑے ہو کر افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ پر واضح پیغام دینا ہوگا۔
اختتام پر مفتی عبد الرحیم نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ پاکستان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ترقی اور استحکام کی جانب گامزن رہے گا۔