ڈرامائی طیارہ تبدیلی، ایران جنگ میں داؤ پر لگے صدر ٹرمپ کے ذاتی مفادات کے بارے میں کیا ظاہر کرتی ہے؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی پر خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کا واقعہ اُن کے ایران کے ساتھ تعلقات کی ہنگامہ خیز تاریخ کا ایک اور نمایاں باب ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار برائے شمالی امریکہ انتھونی زرچر کا تجزیہ۔
ٹرمپ
BBC
امریکی صدر کے مطابق انھوں نے طیارے کی تبدیلی کا فیصلہ سیکرٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر کیا

’اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچتے، میں نے انھیں پکڑ لیا۔ انھوں نے دو بار کوشش کی، لیکن میں نے انھیں پہلے جا لیا۔‘

فروری 2026 میں ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے اگلے روز امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی‘ کے نامہ نگار جوناتھن کارل سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ تبصرہ کیا تھا۔

جب صدر ٹرمپ یہ تبصرہ کر رہے تھے اُس وقت تک واضح ہو چکا تھا کہ امریکی منظوری اور تعاون کے ساتھ کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں۔

ٹرمپ یہ تبصرہ کرتے ہوئے بظاہر اس حملے اور ماضی میں ایرانی دھمکیوں اور مبینہ سازشوں کے درمیان براہِ راست تعلق جوڑ رہے تھے۔

ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد، اگلے چھ ماہ میں ٹرمپ نے اس نوعیت کے بیانات سے گریز کیا۔ تاہم وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے متعدد مواقع پر اس موقف کو دہرایا۔

مارچ میں پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ’ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی مگر بلآخر صدر ٹرمپ فاتح رہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک نامعلوم ایرانی شخص امریکی حملوں میں مارا گیا تھا، جو اُن کے بقول ایک قاتل یونٹ کی قیادت کرتا تھا۔

یہ بیانات اس جنگ کی ذاتی نوعیت، صدر ٹرمپ اور اُن کی سکیورٹی ٹیم کے اُن خدشات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ایران اب بھی امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ان خدشات کی ڈرامائی مثال رواں ہفتے سامنے آنے والی اُس خبر سے ملتی ہے جس میں بتایا گیا کہ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر خفیہ طور پر متبادل طیارہ استعمال کیا تھا۔

ترکی سے واپسی پر انھوں نے میڈیا کے نمائندوں اور اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کو صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ پر سوار کروایا، جو کہ ایک فریب تھا۔

یہ ایک پیچیدہ چال تھی جس میں صدر ٹرمپ کو ایئرفورس ون پر سوار ہونے کے بعد ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا اور بعدازاں لینڈنگ کے بعد انھیں دوبارہ اُسی طیارے پر سوار کروایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک انٹیلیجنس اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایئر فورس ون کے خلاف ایرانی میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔

اور اب صدر ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں۔ مجھے وہی کرنا ہوتا ہے، جو وہ کہتے ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس نے اس ممکنہ خطرے کی بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں تاہم یہ پھر بھی ٹرمپ اور ایران کے درمیان تلخ تعلقات کی تاریخ کا ایک اور نمایاں واقعہ ہے۔

حکومتی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی صدر جنگ زدہ علاقے یا اُس کے قریب سفر کرتا ہے تو اِس نوعیت کے اقدامات غیر معمولی نہیں ہوتے۔

ماضی میں امریکی صدور افغانستان، عراق اور یوکرین جیسے جنگ زدہ علاقوں کا خفیہ انداز میں سفر کر چکے ہیں۔ تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کم از کم چند میڈیا اداروں کو اس کا پیشگی علم نہ ہو اور وہ بعد میں معاہدے کے تحت معلومات کو منظر عام پر لائیں۔

صدر ٹرمپ بارہا اپنی طاقت اور کئی ماہ کی جنگ کے بعد ایران کی فوجی کمزوری کا ذکر کرتے رہے ہیں تو ایسے میں ان کا ایرانی خطرے سے بچنے کے لیے کیٹرنگ ٹرک میں چھپنے کا منظر زیادہ موزوں نہیں۔

انقرہ میں سیکرٹ سروس کی اس کارروائی (ٹرمپ کا طیارہ تبدیل کروانا) کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں اختیار کی گئی رازداری، جزوی طور پر ٹرمپ کی طاقتور عوامی شبیہ کو نقصان سے بچانے کے لیے بھی ہو سکتی تھی۔

اس کارروائی کا ایک ماہ سے زیادہ عرصے بعد منظر عام پر آنا، اِس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اب بھی امریکی مفادات کے لیے ایک ممکنہ خطرہ ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ یہ تنازع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور مخالف فریق میدانِ جنگ میں مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے۔

تاہم ٹرمپ کے خلاف ایرانی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت میں ٹرمپ نے جنوری 2020 میں ایک ایسے میزائل حملے کا حکم دیا تھا جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے رہنما قاسم سلیمانی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایران کے رہنماؤں نے امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا وعدہ کیا تھا۔

ایک موقع پر ایران میں ایک تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ فلوریڈا میں گالف کھیلتے ہوئے ٹرمپ کو ایک ڈرون نشانہ بنا رہا ہے۔

اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی دھمکیاں محض بیانات تک محدود نہیں تھیں۔

Step-by-step graphic showing how President Trump is reported to have switched planes at Ankara airport in July. Panel one shows Trump boarding the old Air Force One plane to leave Turkey on 8 July. Panel two shows Air Force One on the tarmac, with a catering truck raised to aircraft-door level on the far side and media boarding at the back of the plane. Panel three shows the catering truck driving from Air Force One to a nearby C‑32A military aircraft. Panel four shows Trump exiting Air Force One after reportedly reboarding the aircraft after it landed in the UK. Green circles and labels highlight the catering truck, media boarding point and C‑32A steps. Source: Washington Post, White House pool footage via Reuters.
BBC

بائیڈن انتظامیہ نے 2022 میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ کسی بھی امریکی شہری کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔ اُس وقت سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو نشانہ بنانے کی ایک مبینہ سازش منظر عام پر آئی تھی۔

جولائی 2024 میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا کہ ان کے پاسداران انقلاب سے روابط تھے اور وہ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے۔

چار ماہ بعد افغان شہری فرہاد شاکری پر ٹرمپ کے خلاف ایک اور قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا۔

آصف مرچنٹ مارچ 2026 میں مجرم قرار پائے۔ تاہم اب تک شاکری مطلوب ہیں جن پر امریکی استغاثہ نے پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار کی طرف سے ہدایات ملنے کا الزام لگایا ہے۔

اگرچہ یہ کوششیں منصوبہ بندی کے مراحل ہی میں ناکام بنا دی گئی تھیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس میں واپسی کی کوششوں کے دوران ٹرمپ کو درپیش خطرات واضح تھے۔

جولائی 2024 میں پنسلوینیا کے شہر بٹلر میں ایک انتخابی جلسے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے تھے۔

دو ماہ بعد فلوریڈا میں ایک مسلح شخص کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے اسے اس مقام کے قریب درختوں میں چھپا ہوا دیکھا جہاں ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی وائٹ ہاؤس نامہ نگار میگی ہیبرمین نے حالیہ انٹرویو میں ایرانی سازشوں اور سنہ 2024 کی قتل کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ان کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اُن کے ذہن میں یہ سب کچھ ایک دھندلی تصویر میں بدل جاتا ہے۔‘

’ٹرمپ کے لیے خود ایران اور مسلسل خطرے میں ہونے کا احساس ایک مستقل حقیقت ہے۔‘

خبروں کی ویب سائٹ سیمافور کے مطابق صدر اکثر اس بات پر غور کرتے ہیں اور مذاق بھی کرتے ہیں کہ وہ قتل ہو سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’کسی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ صدر بننا اتنا خطرناک ہے اور اگر بتایا ہوتا تو شاید میں انتخاب ہی نہ لڑتا۔‘

اہلکار نے کہا کہ ’وہ یہ باتیں مذاق میں کہتے ہیں لیکن اس کے پیچھے ایک حقیقت بھی ہوتی ہے۔‘

9 جولائی 2026 کی صبح مشہد میں امام رضاؑ کے مزار کے قریب مقتول ایرانی رہنما علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے سوگوار ایک امریکہ مخالف بینر اٹھائے ہوئے ہیں
Getty Images
ایران میں امریکہ اور اسرائیل مخالف ریلی کے دوران ایک بینر پر ’کِل ٹرمپ‘ لکھا تھا

سنہ 2025 میں ایران کی جوہری تحقیقاتی تنصیبات پر امریکی بمباری اور رواں سال کے وسیع فضائی حملوں اور بحری ناکہ بندی کے بعد ٹرمپ کے خلاف ایرانی دھمکیوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اس پر امریکی صدر نے بھی براہِ راست انتباہ دیا تھا۔

جولائی میں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران نے انھیں ’قتل کرنے یا اُن کے قتل کی کوشش کرنے‘ کی دھمکیاں دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہزار ’میزائل تیار حالت میں ہیں جن کا رُخ ایران کی جانب ہے اور اگر ایرانی حکومت نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو مزید ہزاروں میزائل فوری طور پر داغے جائیں گے۔‘

ایران کے لیے صدر ٹرمپ کا یہ پیغام دوٹوک تھا۔

حالیہ برسوں میں صدر ٹرمپ کے خلاف آنے والی کئی دھمکیاں بھی اِسی طرح واضح تھیں۔

ٹرمپ کی ترکی روانگی سے ایک روز قبل سابق ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران شرکا نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: ’کِل ٹرمپ‘۔

اگلے ہفتے وسطی تہران کے ایک چوک میں ایک عمارت پر امریکی صدر کی ایک بڑی تصویر آویزاں تھی جس میں انھیں سیاہ تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس کے نیچے ’ہم ٹرمپ کو مار دیں گے‘ اور ’خون کا بدلہ خون‘ جیسے الفاظ درج تھے۔

ایران نے ماضی میں ٹرمپ کے خلاف کسی بھی سازش میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ تاہم خامنہ ای کی موت اور امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کی خبروں کے بعد دیا جانے والا پیغام واضح تھا۔

ایرانی کہہ رہے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ابھی بہت دور ہے۔

اور ٹرمپ خود انتقام کا ایک ہدف ہیں۔

ترکی سے امریکہ واپسی کے سفر کے آخری مرحلے کے دوران ٹرمپ طیارے میں صحافیوں سے بات کرنے کے لیے پریس کیبن میں آئے تھے۔

انقرہ سے پرواز کے وقت سیکرٹ سروس کی جانب سے طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس غیر معمولی سفر کے بارے میں صحافیوں نے صدر سے سوالات بھی پوچھے۔

اس پر انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’میں ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں کہ میں اُن کی فہرست (ہٹ لسٹ) میں پہلے نمبر پر ہوں۔‘

’لیکن اگر میں گیا، تو آپ بھی جائیں گے۔ ٹھیک ہے ناں؟‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US