اسلام آباد کی امام بارگاہ میں پھٹنے والا خودکش بمبار حملے سے قبل کیا کرتا رہا، تحقیقات کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ ہال کے اندر 6 گولیاں چلائیں، جبکہ امام بارگاہ کے ہال میں پہنچ کر خودکش دھماکا کردیا۔
حملے میں 4 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، خودکش جیکٹ میں بال بیئرنگ کی تعداد زیادہ تھی، حملہ آور نوشہرہ سے ہی خود کش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ سے اسلام آباد پہنچا، حملے سے قبل قریبی ہوٹل میں تھوڑی دیر بیٹھا اور کھنہ روڈ سے امام بارگاہ تک پیدل پہنچا۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور نے 2 فروری کو اسلام آباد کے مذکورہ ٹارگٹ کی ریکی کی، اس سے قبل خودکش حملہ آور مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا، بمبار نے افغانستان سے واپس آکر باجوڑ میں نئی موبائل سم ایکٹی ویٹ کی تھی۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور یاسر نامی دہشتگرد پشاور کا رہائشی تھا، جو ڈیڑھ سال قبل گھر سے لاپتہ ہوا اور اس دوران کبھی کبھار گھر والوں سے فون پر رابطہ کرتا رہا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکش جیکٹ کی تیاری میں جدید نوعیت کا پلاسٹک خام مال استعمال ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے حملے میں سہولت کاروں اور نیٹ ورک کی تلاش میں مصروف ہیں۔