پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے نظام کا باضابطہ طور پر خاتمہ کر کے نیٹ بلنگ (گراس میٹرنگ) کا نیا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026ء کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سولر صارفین کو اب بجلی کے یونٹس کے بدلے یونٹس کی سہولت حاصل نہیں ہوگی بلکہ استعمال شدہ بجلی کی مکمل قیمت ادا کرنا ہوگی۔
نئے قواعد کے مطابق صارفین کی جانب سے نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کے عوض ادائیگی سہ ماہی بنیادوں پر کی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کی مدت پانچ سال تک محدود کر دی گئی ہے، جس کی مدت پوری ہونے پر مزید پانچ سال کے لیے تجدید ممکن ہوگی۔ ان ریگولیشنز کا اطلاق بائیو گیس صارفین پر بھی ہوگا، جبکہ ڈسکوز کے صارفین کو دو طرفہ یا علیحدہ میٹر لگوانا لازم قرار دیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن حکام کے مطابق گرڈ کو فراہم کی جانے والی سولر بجلی قومی اوسط خرید قیمت پر خریدی جائے گی، جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی پر پرانا ٹیرف ہی لاگو ہوگا جو کئی گھریلو صارفین کے لیے 50 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔ البتہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو اپنی بجلی پرانے ریٹس پر فروخت کرنے کی اجازت برقرار رہے گی۔
تفصیلات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاکستان میں چھتوں پر نصب سولر پاور کی معاشیات میں بنیادی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ نیپرا کے نوٹیفائی کردہ فریم ورک کے تحت نئے صارفین کے لیے سولر سے گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کو مہنگے ریٹیل ٹیرف کے برابر کریڈٹ دینے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بجلی کے شعبے میں بڑھتے مالی نقصانات، ٹیرف کے بگاڑ اور گرڈ کے عدم استحکام کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں نصب سولر پاور کی مجموعی صلاحیت اب تقریباً 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو زیادہ تر شہری رہائشی، تجارتی اور صنعتی صارفین میں نصب ہے۔ اگرچہ سولر پاور سے دن کے وقت گرڈ کی طلب میں کمی آئی، تاہم مالی سال 2024 کے دوران گرڈ بجلی کی فروخت میں 3.2 ارب یونٹس کی کمی ہوئی، جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو تقریباً 101 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
پاور سیکٹر کے حکام کے مطابق ان نقصانات کو ٹیرف کے ڈھانچے میں شامل کیے جانے کے باعث باقی گرڈ صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اوسطاً 0.9 روپے فی کلو واٹ آور اضافہ ہوا۔ نیپرا کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کا سابقہ نظام تیزی سے غیر منصفانہ صورتحال پیدا کر رہا تھا، جسے ختم کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔